SIZE
3 / 10

" یہ خوب رہی ... آج لنچ تم بناؤ گی ، تمہاری چھٹی ھے بھئی ، میری طرف سے دیگ اتار لو اور محلے بھر میں اپنی خوشی کی منادی کرا دو . مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا . ذرا ان چھٹیوں کو شوہر نامدار کی خاطرداری میں گزار کر ثواب ہی کما لو . ایسا سنہری موقع تو تمہیں کم ہی ملتا ھے . اس بار گنوا دیا تو گناہ گار ، نافرمان اور ظالم ٹھہرای جاؤ گی ." وہ محظوظ ہوتے ہوئے بولا .

" دیکھو جان جاناں ...! میری ڈیوٹی تم سے ہزار گنا زیادہ سخت اور ڈیمانڈنگ ھے . ہفتے کے چھ دن تو مجھے اپنا بھی ہوش نہیں ہوتا . تمہاری خدمت گزاری کرنے کا میرے پاس وقت ہی کہاں ھے .جبکہ تم ہفتے کے پانچ دن کام کرتے ہو اور باقی دو دن سو کر اور فلمیں دیکھ کر گزارے ہو. میں اپنی سنڈے کی چھٹی بھی گھر کے کاموں میں گزار دیتی ہوں . نہ سونے کا وقت ملتا ھے نہ ہی آرام کا .بس کولھو کا بیل بن کر رہ گئی ہوں پھر بھی مجھے گنہگار ٹھہراتے ہو ، ویسے مجھے کونسا تمہارے ان طعنوں تشنوں کی پروا ھے ." وہ چڑ کر بولی .

" تمہاری اپنی چوائس ھے جی ... میری طرف سے تم آج گھر بیٹھ جاؤ ، دیکھنا اپنے رول کو پہچاننے کے بعد تم خود کو اس گھر کی رانی محسوس کرنے لگو گی . چھوڑو یار کیا رکھا ھے نوکری میں ، عورت کی کمائی میں برکت ہی کہاں ہوتی ھے ." وہ شریر لہجے میں بولا .

" میں نے یہ ڈگریاں چولہے میں جھونکنے کے لئے نہیں لی تھیں . ان کو حاصل کرنے میں میری شب و روز کی محنت اور لگن شامل ھے ." وہ جل کر بولی . " گھر بیٹھ جاؤ . ایسا بے ہودہ مذاق مجھے بالکل پسند نہیں . بن جاؤں نوکرانی ، دو ٹکے کی مہترن اور دھوبن ... یہ سب نہیں ہو گا . میری بہنوں نے یہی تو غلطی کی . جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہی ہیں ."

" تو پھر واویلا اور رونا دھونا کیسا ...؟ حالانکہ میں ہر قدم پر تمہارا ساتھ دینے کو تیار ہوں . ذرا سوچو کہ تم سسرال میں رہ رہی ہوتیں تو نہ میں تمہارا ہاتھ بٹا سکتا ، نہ ہی ماما کو سمجھا بجھا کر دھیما کر سکتا . وہاں تمہیں گھر کی ساری ذمہ داری خود ہی اٹھانی پڑتی . چاہے تم صبح کی گئی شام کو ہی گھر واپس کیوں نہ آتیں . ڈنر کا انتظام تمہیں ہی کرنا پڑتا ... سب کو ناشتہ دینے کے بعد تمہیں آفس جانے کی اجازت ملتی . جوا ئنٹ گھروں میں ایسے ہی اصول چلتے ہیں ناں ... پھر میں دیکھتا کہ تم نوری چھوڑتیں یہ مجھے ." وہ کہ کر ہنسا تھا پھر بولا .

" تم بڑی ہی خوش قسمت ہو کہ ہماری نوکری دوسرے شہر میں ھے . ورنہ جوا ئنٹ فیملی سسٹم کے ہتھے چڑھ گئی ہوتیں تو تیر کی مانند سیدھی ہو جاتیں."