SIZE
3 / 5

"ریلیکس تم تو یوں پریشان ہو ری ہو جیسے وہ تمہیں ایف –بی سے نکل کر کھا جائے گا .دیکھو برا نہ ماننا مگر دنیا داری کے لیا تمہیں اس سے دوستی کر لینی چاہیے اور یہ جو تم پہ آپا جان کا لیبل لگا ہوا ہے وہ بھی ہٹ جائے گا ...اس میں قیامت ہی کیا ہے ور پھر کونسا تم اس سے مل رہی ہو" ...سوہا کی بات پر وہ فقط اسکا چہرہ دیکھنے لگی .

وہ گہری سوچ میں گم تھی .کسی نتیجے پر نہ پہنچ پا رہی تھی .پھر ان باکس میں عادل کے میسج انے لگے کہ وہ کون ہے اور کیا کرتی ہے .اور اس کی پسند نہ پسند کیا ہے .شیطان کا کام ہے ورغلانا اور ایک کامیاب انسان اور ایک سچے مسلمان کا کام ہے اپنی اصل جہت پہچان کے اس پر سبط قدم رہ کر بنا متزلزل ہوے چلتے جانا ...بسا اوقات انسان دل و دماغ کی کشمکش میں الجھ بھی جاتا ہے .یہی دل و دماغ کی کھینچا تانی کیا سے کیا کروا ڈالتی ہے .

رابی کو اگرچہ یہ سب ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ..مگر دوستوں کے ورغلانے میں آ کر اس نے جواب دے ڈالا ...نہ جانے کتنے بین تھے جو اس کی اس حرکت پر فضا میں گھل گئے تھے اور ہر جانب سوگواری کے گہرے بادل چھا گئے ہوں جیسے ...رابی کو تنہائی نے ایسا کرنے پر آمادہ کیا تھا .وقتی طور پر وہ پریشان ہوئی مگر بعد میں غیر محسوس طریقے سے عادل کی باتوں کی عادی ہوتی چلی گئی .رفتہ رفتہ وہ عادل سے اپنی ہر چھوٹی بڑی بات شیر کرنے لگی .عادل اس کی ہر زیست پر حاوی ہو گیا تھا .رابی نے پری کے نام سے آئی –ڈی بنائی تھی .عادل جب اس سے پوچھتا .

"کیسی ہے میری پر؟" تو رابی کا دل دھڑک سا جاتا کسی کی اتنی توجہ اور التفات انسان کو خوش گمان کر ہی دیا کرتا ہے .اور پھر رابی کو تو محض طعنے ہی ملے تھے ...یہ محبت بھرے الفاظ بے حد خوش کن لگتے اسے ...وہ پھولی نہ سماتی...

پھر ایک دن ایسا ہوا کہ نہ تو عادل کا کوئی میسج آیا اور نہ ہی اس نے کسی میسج کا جواب دیا ...رابی بیحد پریشان ہوئی ...اسکا عادل سے رابطہ بالکل ختم ہو گیا تھا ...رات بھر وہ پریشانی کا شکار رہی پھر دو دن گزر گئے اور اسکی رو رو کر آنکھیں سوج گئیں...وہ رات بھر روتی رہی تھی .پھر تیسری رات عادل کا میسج آ گیا کہ وہ اپنے کزن سے ملنے دوسرے شہر گیا ہوا تھا ...وہ بلک بلک کر رو دی اسے خود معلوم نہ تھا کہ وہ عادل کے اتنے قریب ہو چکی تھی .اس نے رو رو کر اس کی جدائی میں گزرے ایک ایک لمحے کی کہانی گوش گزار کر دی .عادل بیحد خوش ہوا اور اس نے ملنے کی خواہش کر ڈالی . اور یہ بھی کے اگر وہ کل فلاں جگہ فلاں پارک میں نہ آئ تو وہ اس سے کبھی بات نہیں کرے گا .عادل اس کی کمزوری جان چکا تھا اور اسکا فائدہ اٹھانا چاہتا تھا .ہاتھ آئے موقعے سے کون فائدہ نہ اٹھاے گا .