SIZE
3 / 29

"تو میں بیوقوف ہوں کیا"؟ وہ قدرے بگڑی.

اعیان نے گھری سانس بھری اور مسکرایا.

"ہاں! بیوقوف مگر حسین بیوقوف." وہ اسکی بہت طرف کرتا تھا. اور ہمیشہ کی طرح مشعل کا موڈ منٹوں میں بدل گیا. اس نے ہلکا سا قہقہہ لگا کر

جسی اسکی سند کو قبول کیا پھر بڑے ناز سے بولی.

"پھر کیا خیال ہے لونگ ڈرائیو ہو جاتے"؟

"اس وقت"؟ اعیان نے شام کے گہرے ہوتے ساتے کو دیکھ کر کہا.

"اس وقت کو کیا ہے؟ لوگ تو اسی وقت لونگ ڈرائیو پر نکلتے ہیں". اس نے دھونس سے کہا.

مگر اعیان کو پتا تھا اسکے ساتھ اس وقت لونگ ڈرائیو پر جانے کا مطلب کھانا بھی بھر کھانا اسکے گھر میں روٹین تھی سب کھانا ساتھ کھاتے تھے

بلکے ابو جی تو رات کے کھانے پر سب ے اکھٹا ہونے پر بہت سختی سے کار بند تھے.

"کیا سوچ رہے ہو". وہ بیزار ہوئی.

"تمہیں پتا تو ہے پھر بھی....... میں رات کا کھانا گھر پر سب کے ساتھ کھاتا ہوں... اعیان نے آرام سے کہا تو وہ تیکھے لہجے میں بولی.

"کیا شادی کے بعد بھی یہی کچھ ہوتا رہے گا"؟

اب ایسی بھی کوئی پابندی نہیں. فاران بھائی بھی بھابھی بچوں کے ساتھ ایک عہدہ ہفتے بعد ہوٹلنگ کر لیتے ہیں بس امی ابو سے اجازت لینی پڑتی ہے

اور کبھی کبھی تو ابو بھی سب کے ساتھ باہر کھانے کے لئے جاتے ہیں". وہ مسکرا رہا تھا. انکے گھر کا ماحول واقع قبل رشک تھا.

"بہر حال میرے تو اپنے طور طریقے ہیں دیکھ لو اعیان مصطفیٰ بعد میں پچھتانا نہ" وہ اسکو تنبیہ کرنے والے انداز میں کہتی اعیان کو ہنسا گئی.

"محبت سب بدل دیتی ہے جانم ، اندر باہر سے سب" وہ سر جھٹکتی اٹھ کھڑی ہوئی.

"چلو جلدی کرو، لونگ ڈرائیو ہی کریں گے کنجوس میاں کھانا تم گھر ہی کھا لینا".

اس کے طنز پر اعیان نے کان نہیں دھرے تھے البتہ اس کے اتنی جلدی مان جانے پر اس نے سکون کا سانس ضرور لیا تھا.

.................................

تانی فون ہے تمہارا، امی کی آواز نے اسکو ٹی وی سے نظریں ارر کان دونو ہٹانے پر مجبور کیا. بحث و مباحثے والی پروگرام اسکو بہت پسند تھے.

وہ بیزاری سے ٹیلی فون اسٹینڈ تک آئی. تو امی محو گفتگو تھی جس سے اندازہ ہوگیا تھا کہ فون اسکے سسرال سے ہے.

شاید ثانیہ ..... یا پھر ہرا وہ اپنی طرف سے اندازہ لگانے لگی اسکا ذھن ابھی تک پروگرام میں اٹکا ہوا تھا.

"اسلام و علیکم " بری خوش دلی سے اسنے کہا تھا.

"وعلیکم اسلام، جیتی رہیے، خدا جلد آپکی رخصتی کرے" دوسری طرف سے مردانہ آواز بے حد غیر متواقع تھی، تزین گڑبڑا کر رہ گئی، فورا ٹی وی

کی آواز کم کی.

"جی کون"؟

"کون بھی ہوگی آئس کریم بھی ہوگی آپ کہیں تو ابھی پروگرام بنا لیں"؟ وہ چہک رہا تھاکہیں عبید تو نہیں تزین کو شک گزرا.

"دیکھیں ٹھیک سے اپنا اپنا تعارف کروائیں ورنہ"؟ اسے غصّہ آیا.

"ورنہ"... وہ جیسے لفظوں سے لطف اٹھ رہا تھا.

"ورنہ..... یہ کہ کر اس نے فون بند کر دیا.

دماغ خراب ہے ان لوگوں کا اور امی بھی خوب ہیں، پتہ نہیں رانگ نمبر پر بات کرتی رہی ہیں. ٹی وی بند کرتی وہ کڑھتی ہوئی کچن میں آئی.

تب تک ہاتھ میں تھاما کاڈ لیس پھر سے بجنے لگا.

"آپ کس سے بات کر رہی تھیں فونیر پر؟" اس نے امی سے پوچھا.