SIZE
1 / 8

مجھے تو اب یاد بھی نہیں کہ پھولوں سے باتیں کرنے کا شوق مجھے کب ہوا ' شاید اماں کو دیکھ کر جو صبح فجر کے بعد کیاری میں لگے پودوں سے ایسے باتیں کرتی تھیں جیسے کوئی رازداں سہیلی سے ہم کلام ہو . وہ کہا کرتی تھیں .

" پودے جاندار ہوتے ہیں ' ان سے جتنی باتیں کرو جتنا خیال رکھو ' یہ پھلتے پھولتے وقت ہمیں دعائیں دیتے ہیں ."

میں اکثر پوچھتی ." اماں ! یہ پھلنا پھولنا کیا ہوتا ہے ؟"

" جس طرح تمہیں صبح' شام ' دوپہر کو کھانا اور شام کو چاۓ ' بسکٹ اور چپس وغیرہ چاہیے ہوتے ہیں اسی طرح ان کو بھی کھانا چاہیے . تب ہی تو یہ بڑھتے ہیں ."

شام کے وقت کامنی کے درخت پر لگے چھوٹے چھوٹے سفید پھولوں کی مہکار اور پھولوں کے گرنے سے اماں کی کیاری بھی سفید ہو جاتی . اماں اسے صاف کرتے وقت مجھے اور انعم کو بھی ساتھ لگا لیتیں .مجھے وہ خوشبو بہت اچھی لگا کرتی تھی ' سوندھی سوندھی سی .

میں پوچھتی . " اماں ! یہ پھول خوشبو دیتے ہویے گر کیوں جاتے ہیں ؟"

" بس بیٹا ! یہ الله کی شان ہے کے جوبن پر لا کر واپسی کا کا سفر شروع کر دیتا ہے . "

ہمارے چھوٹے سے گھرانے میں بس جیسے سکھ چین ہی تھا . اماں کو بیزار ہونے کی عادت نہ تھی اور ابا تو ہمارے تھے ہی بہت اچھے ' ہر ہفتے ہمیں گھمانے لے جاتے اور دادی اماں کے گھر ہم جاتے تو بہت ہی مزہ آتا تھا . دادی اماں ہمارے ساتھ رہا کرتی تھیں ' پھر نجانے کیا ہوا تایا ابا انھیں اپنے ساتھ لے گئے . امی کہتی تھیں کے تایی امی بیمار رہتی ہیں تو انھیں دادی اماں کی ضرورت ہے . کیا ضرورت تھی ؟ مجھے یہ پتا نہیں تھا کے رشتے ضرورت میں کیسے بدلتے ہیں اور محبت سے کیسے نہیں نبھتے . اب تو سارا دکھ ہی سمجھ میں آنے کا ہے .