SIZE
3 / 8

ایک روز وہ اس کے سامنے جا کھڑی ہوئی . " مجھے ایک طوطا چاہیے جس کو سیٹی بجانا آتی ہو اور جو باتیں بھی کرتا ہو ." پہلی بار وہ اس سے کوئی فرمائش کر رہی تھی اور وہ بھی ایک پرندے کی ' شوکے کا دماغ گھوم گیا .

" کیا ؟" وہ ابھی تک حیران تھا .

" ہاں مجھے چاہیے بس ." وہ ضدی پن سے بولی .

شوکے نے گھما کے ایک جھانپڑرسید کیا تھا .

" دوبارہ اس لہجے میں مجھ سے بات کی تو گدی سے زبان کھینچ لوں گا ." قہر بار نظروں سے اسے گھورتے ہویے وہ گھر سے نکل گیا تھا . وہ رات دیر تک بیٹھی روتی رہی .

شوکے کی نظروں میں بار بار اسکا رویا رویا چہرہ گھومتا رہا ' اس کے ذھن کو ایک ہی سوال پریشان کر رہا تھا .

" اب اسے میرے سوا کسی اور کی بھی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے ' وہ میرے سوا کسی اور کو سوچنے لگی ہے ' کیوں ؟"

وہ اس سے ڈرنے لگی تھی . اسکی موجودگی میں سہمی رہتی اور وہ خوش تھا کے وہ اس پر اپنا ر عب جمانے تسلط قائم کرنے میں کامیاب ہو چکا تھا . لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس کوشش میں وہ اس سے کتنا دور جا چکی تھی ' اب تو وہ اس کے سایے سے بھی کترانے لگی تھی .

پھر ایک روز شوکے نے عجیب منظر دیکھا تھا . وہ جوں ہی گلی میں مڑا اس نے اپنے چوبارے پر پری گل کو کھڑے دیکھا ' وہ نہ صرف کھڑی تھی بلکہ ساتھ والے گھر کی منڈیر پر جھکی اشاروں میں کچھ بات بھی کر رہی تھی . یہ دیکھتے ہی اسکا دماغ گھوم گیا تھا .