SIZE
3 / 3

اس لڑکی نے ایک غیر محرم کو اپنی طرف مائل کیا ہے۔"

" ایسا کچھ نہیں ہے اس نے مجھے کبھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھا تھا۔" میں صدمے کے باعث بول نہ پا رہا تھا۔ صرف لڑکیاں مشرقی نہیں ہوتیں لڑکے بھی مشرقی ہوتے ہیں اور میں اس کا چلتا پھرتا ثبوت تھا' جیتی جاگتی تصویر۔

بعد میں کرن نے بتایا کہ جب میں بھوک ہڑتال پر تھا تو رافعہ آپا اورامی نے ثنا کو فون پر خوب سنائیں کہ وہ ان کے بیٹے کو ورغلا رہی ہے۔ میں دکھ سے رو بھی نہ سکا(مرد رو نہیں سکتے ناں) میں ثنا سے فون پر بات کر کے اپنی پوزیشن واضح کرنا چاہتا تھا' اس کا نمبر بہت مشکل سے ملا۔

" ثنا! میں شرمندہ ہوں کہ۔۔۔۔!" میں اس سے سب کچھ کہتا گیا وہ خاموشی سے سنتی رہی۔

" اویس! اگر تمہارے دل میں میری عزت ہے' احترام ہے تو مجھے اس کا ثبوت دو۔۔۔۔۔" میں سمجھا وہ مجھے کورٹ میرج کا مشورہ دے گی۔ میں بھی بغاوت پر تیار تھا۔

" تم اپنے گھر والوں کی مرضی سے شادی کر لو۔ میں اپنی نگاہوں میں سرخرو ہو جاؤں گی۔ اگر تمہارے دل میں میرے لیے کوئی جذبہ ہے تو مجھ سے کبھی رابطہ نہ رکھنا۔۔۔۔ میں جاب کرتی ہوں' باہر نکلتی ہوں تو یہ اعتماد میرے والدین نے مجھے بخشا ہے جس کی میں نے ہمیشہ پاسداری کی ہے۔۔۔۔ویسے بھی میری شادی ہو رہی ہے اور وہ شخص اور اس کا گھرانہ مجھے وہ عزت و احترام دے رہے ہیں جو تم اور تمہاری فیملی کبھی مجھے نہ دے سکتے اور یاد رکھنا۔۔۔۔" وہ تھوڑی دیر رکی میرا پورا وجود کان بن چکا تھا۔ میں ایک لفظ نہ بول سکا۔ اس نے فون بند کردیا تھا۔

ثنا سے محبت تھی یا اس محبت کی پاسداری۔ جو میں گھر والوں کے فیصلے

پر راضی ہو گیا تھا۔

ساری گلی بقعہ نور بنی ہوئی تھی۔ میری شادی پر گھر والوں نے سارے ارمان نکالے تھے(اور میرے ارمان!!!)

کنیز فاطمہ بنت حاجی مقبول علی شرعی حق مہرکے مطابق میری زندگی میں شامل ہو گئی تھی ۔ میرے نکاح میں شرعی طریقوں کی پیروی کی گئی تھی ابا جی نے خود نکاح پڑھایا تھا۔ ولیمہ شاندار ضیافت تھی۔ بہنیں' امی دلہن پر واری صدقے جا رہی تھیں۔ اور میں بالکل خاموش تماشائی بنا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ ثنا کا ایک جملہ میرے کانوں میں گونج رہا تھا۔

" اویس! مذہب وہ نہیں ہے جو صرف عبادات میں نظر آۓ مذہب تو وہ ہے جو روزمرہ معاملات میں شامل ہو کر تعارف بن جاۓ۔پھر لڑکی جو گھر سے فکر معاش لے کر نکلتی ہے وہ بے راہ رو نہیں ہو سکتی۔ ہر لڑکی محبت سے زیادہ عزت چاہتی ہے جو تم نہیں دے سکتے تھے۔ اور مجھے صرف عزت ہی چاہیے تھی۔ جو تمہارے گھر والے مجھ جیسی "خود مختار" اور " آزاد خیال" لڑکی کو نہیں دے سکتے تھے۔"