SIZE
1 / 6

وہ بڑی خاموشی سے کافی دیر تک بیٹھی رہی تھیں۔ یہ کوئی تعویز گنڈے دینے والے کا اڈا نہیں تھا۔ سنا تھا کہ یہاں کچھ دین کی باتیں ہوتی ہیں۔ درس ہوتا ہے۔ جو چاہے آ کر بیٹھ جاۓ۔ سنے، سمجھے اور اگر کوئی سوال ہو تو پوچھ لے۔ وہ بھی کافی دیر تک سنتی رہی تھیں۔ پھر وہ چند ان لوگوں میں بیٹھ گئی تھیں جن کے کچھ سوال تھے، اور جو بابا جی کے فارغ ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔

" میرا کوئی سوال تو نہیں بابا جی! بس یہ کہنا تھا کہ لگتا ہے جیسے کچھ رکھ کر بھول گئی ہوں۔ کھو بیٹھی ہوں۔" اپنی باری پر انہوں نے بڑی اداسی سے کہا۔ وہاں اب وہ دونوں اکیلے ہی تھے۔ باقی سب اپنا اپنا سوال پوچھ کر جا چکے تھے۔

" کوئی چیز ؟" انہوں نے بڑے اطمینان سے پوچھا۔

" چیز نہیں۔۔۔۔۔ بس میرے اندر سے کچھ چلا گیا ہے جیسے۔۔۔۔۔ بڑی دوری پر آ گئی ہوں جی۔ بڑا رونا آتا ہے۔ دل کٹتا ہے۔"

" دکھی ہیں۔۔۔۔۔؟"

" پتا نہیں۔۔۔۔ میں بڑی بری طرح سے فیل ہو گئی ہوں۔"

" فیل ہونے کا احساس ہوتا ہے؟ بابا جی نے غور سے ان کی آنکھوں میں دیکھا۔

" ہاں جی۔۔۔۔ بہت پیچھے بھی رہ گئی جی میں۔ بڑا فاصلہ آ گیا ہے۔ کیا کروں؟"

" بولتی رہیں۔۔۔۔۔ میں سن رہا ہو۔"

" میں نے بڑی خوشحال زندگی گزاری ہے۔ جوانی میں بڑی خوبصورت تھی۔ بیس سال کی تھی جب بڑے اچھے گھرانے میں شادی ہو گئی۔ سسرال میں بھی راج کیا۔ دنیا جہاں کی نعمتیں ملتی رہیں۔ اوپر تلے چار بیٹوں کی ماں بن گئی۔ خاندان بھر میں میری خوش قسمتی کی مثالیں دی جاتی تھیں۔ جیسا چاہا پہنا، جہاں چاہا خرچ کیا۔ ایک بیٹا ڈاکٹر بن گیا ۔ ایک نے اپنا بزنس کر لیا۔ ایک پڑھنے کے لیے باہر چلا گیا اور ایک سرکاری ملازم ہو گیا۔ "

" الله تعالی بہت مہربان رہا ہے آپ پر ماشاء اللہ۔"

" میری نند کی بیٹی تھی، نکاح کے بعد گھر بیٹھے ہی طلاق ہو گئی تھی۔ بچی بڑی خوب صورت ،سلیقہ مند، پانچ وقت کی نمازی تھی۔ جس سے نکاح ہوا تھا وہ ذرا ماڈرن تھا۔ ایک دو بار بچی سے ملا تو انکار کر دیا کہ یہ تو بہت ہی مذہبی ہے۔ طلاق ہوئی تو اس کے مذہبی ہونے کی بات کچھ ایسے پھیلی کہ جیسے مذہب سے لگاؤ کوئی برائی ہو، جیسے نفسیاتی مریضہ ہو۔ میری نند بڑا روتی تھی۔ ایک دن آئی میرے پاس۔ اپنا آنچل میرے قدموں میں ڈال دیا۔ کہا گھر کی بچی ہے، واصف کے لیے لے لو۔ بڑا احسان رہے گا بھابھی آپ کا۔ میں نے انکار کردیا۔ کہا بیٹا کہتا ہے ڈاکٹرنی سے ہی شادی کروں گا۔"

" واصف کو سمجھائیں گی تو وہ سمجھ جائے گا۔۔۔۔۔ آپ کی بہت سنتے ہیں سب بچے۔"

" تم جانتی ہو زبیده! آج کل کے بچوں کو ماں، باپ کی ایک نہیں چلنے دیتے۔"

" آپ بات تو کریں واصف سے۔"

واصف سے میں بات کیوں کرتی، جب شادی ہی میری پسند سے ہونا تھی۔ میں نے واصف کو کانوں کان خبر نہیں ہونے دی اور ہفتے کے اندر اندر ایک ڈاکٹر لڑکی سے اس کا نکاح پڑھوا دیا۔ نند سے کہہ دیا کہ لڑکی واصف کی کلاس فیلو تھی۔ دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔"

" آپ کو اپنی نند پسند نہیں تھیں یا ان کی بیٹی ؟"

" ڈاکٹر بیٹے کی ماں تھی۔ میں بابا جی بی اے پاس، طلاق یافتہ لڑکی کو کیسے اپنے ہونہار بیٹے کے لیے بہو بنا کر لے آتی۔ بیٹا میرا چاند کا ٹکڑا، اس کی پیشانی برگرہن کیسے لگا دیتی۔

" بچی شریف تھی ، نمازی تھی، یہ نہیں سوچا آپ نے؟"

تب نہیں سوچا۔۔۔۔۔ بعد میں بڑا سوچا کہ نند کیسے بلک بلک کر روتی تھی۔ گھر بیٹھے بیٹھے پاک باز بیٹی کو داغ لگ گیا تھا۔ اگر میرے پاس ہاتھ جوڑ کرآ ہی گئی تھی تو کچھ تو لاج رکھ لیتی۔

” ہاں رکھنی چاہیے تھی لاج ........... "