SIZE
2 / 9

طیبہ بھی ناکے لگی بانسری کی طرح تھی۔ نہ کبھی کسی نے ہونٹوں سے لگایا نہ ہی طیبہ نے اپنے سر سنگیت نکالے۔۔۔۔۔ مطلب۔۔۔۔۔ نہ کبھی اسے پیار ملا نه اسے پیار دینے کا طریقہ آیا کہ کچھ دھونس ماں پر اپنے پیار کی ہی بٹھا سکتی۔

کچھ بہت پہلے۔۔۔۔ سالوں ادھر۔۔۔۔ اوروں کی طرح اس نے بھی سنا تھا (اور پھر اس بات پر یقین بھی کرلیا تھا ) کہ نانی اپنی جوانی میں کسی لڑکے سے بہت محبت کرتی تھیں۔۔۔۔ اور سگی بڑی بہن نے چالاکی سے اس لڑکے سے اپنی شادی رچا لی تھی۔ بس وہ دن اور آج کا دن ان کو رہتی دنیا تک عورت ذات کا نام اور ہر رشتے سے جیسے نفرت سی ہو گئی۔ تب کی ہی باتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ نانی دنوں مہینوں زہریلی کھمبیاں بھی اکٹھی کرتی رہی تھیں۔۔۔۔ پھر نجانے کیا ہوا۔۔۔۔ نہ تو وہ زہریلی کھمبیاں خود کھا سکیں۔۔۔۔ اور نہ ہی بہن کو کھلا سکیں۔۔۔۔ لیکن جھولی بھر بھر زہریلی کھمبیاں اکٹھی کرنے کا یہ نقصان ضرور ہوا کہ کڑواہٹ نانی کے اندر ایسے رچ بس گئی جیسے پودے کے اندر کھار اور جسے پھر تناور بنے درخت میں سے جدا کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا ہے۔

مرحومہ ماں کو یاد کرتے تو کبھی کسی نے انہیں دیکھا نہ سنا۔ بہن' بیٹی' سہیلی' بھابی' چاچی' تائی' خالہ' مامی کے الفاظ تک ان کے لیے حروف ممنوعہ ہو گئے۔

آب ایسا بھی نہیں تھا کہ تانی نے جوگ لے لیا تھا۔ بیراگ اوڑھ لیا تھا۔ بس مور پنکھ گردش جاناں کے باعث تھور میں بدل گئے تھے۔ پھر یہ تھور بھی ایسا تھا کہ میلوں دور سے ہی نظر آ جاتا تھا۔ بہنوں سے لڑنے کا کوئی موقع تو وہ ویسے بھی ہاتھ سے جانے نہ دیتی تھیں۔ زرا زرا سی بات پر ہمسایوں اور ان کی بیٹیوں کے بھی سر کے بال ہوتے اور ان کے ہاتھ ۔۔۔۔۔ کچھ چھوٹے ہونے کا لحاظ کرتیں ۔۔۔۔۔ کچھ دیوانی ہونے کا۔۔۔۔۔ لیکن آخر کب تک؟ نئے پتوں نے بمشکل پرانے پتوں کی جگہ لی ہوگی کہ نانی آہستہ آہستہ تنہا ہو گئیں۔۔۔۔۔ بالکل ایسے ہی جیسے برفانی علاقوں سے کوچ کر جانے والے پرندوں کے پیچھے رہ جانے والے بڑے بوڑھے ہوتے ہیں ۔ لیکن نانی کو کسی بات کا قلق نہیں تھا۔۔۔ وہ ایسا ہی چاہتی تھیں۔۔۔۔ عورت ذات سے نفرت بہت ہو گئی تھی انہیں۔۔۔۔۔ ایک جو انہیں یہ آج کل کے ڈاکڑوں' سرجنوں کا علم ہوتا جو جنس بدل دیتے ہیں تو وہ کب کی اپنی جنس تبدیل کروا کر لڑکا بن چکی ہوتیں' مرحوم شوہر بھی اکثر کہا کرتا تھا۔

" عید تہوار پر بھی گھر نہیں جاتی۔۔۔۔۔ ایسی بھی کیا بے رخی۔"

" کیا کرنا ہے گھر جا کر۔۔۔۔۔ ماں باپ تو قبروں میں دفن ہیں۔ " نانی ہمہ وقت کی اداسی کو مزید گہرا کر لیتیں۔۔۔۔۔۔

" بہنوں کے گھر چلی جا۔۔۔۔" شروع شروع میں شوہر چڑاتا تھا۔۔۔۔۔ بعد میں واقعی ہمدردی سے کہنے لگا۔ پر یہ پتا نہیں چل سکا کہ یہ ہمدردی کس پلڑے کی ہوتی تھی۔ بیوی کی طرف کی یا سالیوں کی طرف کی۔۔۔۔۔

" ان چنڈالوں کی صورت دیکھ کر میں نے اپنی عید خراب کرنی ہے۔" بہنوں کے نام پر تو وہ ایسے اچھلتی تھیں' گویا ٹھنڈے پانی کے چھینٹے کوئی گرم توے پر دے مارے۔

" خدا نے سات بہنیں دیں ۔۔۔۔۔۔ سات چنڈالیں ۔۔۔۔۔ سات ڈائنیں۔۔۔۔۔ سات پچهل پیریاں ۔۔۔۔۔ سات بھائی دے دیتا تو خدا کا کیا جاتا تھا۔ وہ جھولی اٹھا اٹھا کر خدا سے شکوے کرتیں۔ شوہر نے رفتہ رفتہ کہنا ہی بند کردیا تھا۔