SIZE
2 / 4

کہیں میرے ساتھ بھی ایسا نہ ہو جائے کہ میں نوکری چھوڑ دو ں ا ور اسکول کو گرانٹ مل جائے ۔اگر ایسا ہوا تو میری بارہ سالوں کی محنت بیکار چلی جائے گی، لوگ مجھ پر ہنسیں گے، مجھے بے وقوف کہیں گے، اور کوئی کاروبار شروع کرو ں بھی تو کیسے نہ زربل ہے نہ زوربل ۔

بیوی کو سمجھانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں ۔۔۔۔ نہ وہ خاموش ہوئی اور نہ میری اذیت کم ہوئی ۔ ہر وقت اس کی زبان سے حرف شکایت ادا ہوتے تھے۔ اس نوکری کے لیے میں نے تو پہلے ہی منع کر دیا تھا لیکن میرے ابا نے مجھ سے کہا تھا کہ ایک دو سال میں تنخواہ شروع ہو جائے گی ، کچھ روپیوں کی ضرورت ہو تو مجھ سے مانگ لینا، اب وہ بھی تھک گئے ہیں آخر کب تک ہمارا خرچ برداشت کریں گے اور گرانٹ کب ملے گی کوئی میعاد طے شدہ نہیں ۔

قینچی کی طرح چلتی ہوئی اس کی زبان کو خاموش کرانے کے لیے میں نے کہا کہ تھوڑا اور صبرکرو اور خدا پر بھروسا رکھو۔اس کو سب کی فکر ہے اور مجھے بھی اس کی ذات سے پوری امید ہے ۔اس کی مرضی کے بغیر تو ایک پتا بھی نہیں ہلتا اور کچھ ہی دنوں کی توبات ہے۔ ساری تیاریاں ہو چکی ہیں بس اب آخری انسپکشن باقی ہے۔ گرانٹ کے لیے درخواست فارم ہم جمع کر چکے ہیں۔ اب امید ہے کہ بہت جلد ہی گرانٹ مل ہی جائے گی ۔

ایک پھٹی ہوئی کتاب کے اوراق کی طرح بکھرکرمیں ریزہ ریزہ ہو گیا تھا ۔صبر کر رہا تھا اور سوچتا تھا بیوی بھی صبر سے کام لے ۔ ہمیشہ ایک بے چینی ،اور کئی سوالات ذہن میں ایک ساتھ امڈتے چلے آتے تھے ۔اور میں خیالات میں غرق ہو جاتا ’’ حکومت مہاراشٹر نے ایک نیا قانون جاری کرکے ریاست کے تیرہ سو اسکولوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور وجہ بتائی کہ ان اسکولوں میں بچوں کی تعداد بہت کم ہے۔لیکن میں حکومت سے یہ پوچھتا ہوں کہ جس اسکول میں میں پڑھاتا ہوں وہاں بچوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور میں بارہ سال سے مفت میں پڑھارہا ہوں تو ہماری اسکول کو اب تک گرانٹ کیوں نہیں ملی ؟‘‘ یہی سب سوچتے ہوئے میں نے نہایت ہی رنج و غم کے ساتھ بیوی کو یہ خبر سنائی ۔اور سوچ رہا تھا کہ وہ اس خبر پر افسوس ظاہر کرے گی لیکن اس نے کہا’’چلو اچھا ہوا، ورنہ ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کر نے والے سیکڑوں بچے تمہاری طرح بے روزگار ہو جاتے ۔میں تو کہتی ہوں یہ تعلیم حاصل کرنا جوا کھیلنے کے برابر ہے، جس میں انسانی زندگی داؤ پر لگی ہوتی ہے ۔ آخر تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی نوکریاں کہاں ملتی ہیں ؟ او ر پھر کوئی چھوٹا موٹا کام کرنے میں ان تعلیم یافتہ لوگوں کو شرم آتی ہے۔ بڑے بڑے اور امیر لوگوں کو دیکھئے انھوں نے کہاں اتنی تعلیم حاصل کی ہے ۔ بارہویں پاس ملک کی شکشا منتری ہے، ایک منسٹر نے جعلی ڈگریاں خریدی ہیں اور چائے والا پردھان منتری ہے ، ایسی کئی مثالوں سے سماج بھرا پڑا ہے۔ان لوگوں کو دیکھو ،نہ تعلیم میں اپنا سر کھپایا ،نہ بھری جوانی میں سر کے بال سفید کیے، بڑی خوش ہوئی، حکومت نے بہت اچھا فیصلہ لیا جو تیرہ سو اسکولوں کو بند کر دیا۔‘‘ میں اسے سمجھا رہا تھا’’ تم ایسا کیوں سوچتی ہو ‘‘ لیکن میں محسوس کر رہا تھا ،وہ تو میرے ہی دل کی بات تھی جو میں بھی کہنا چاہتا تھا لیکن الفاظ کا جامہ پہنانے سے قاصر تھا۔

ہر کلاس میں کچھ شرارتی لڑکے ہوتے ہیں ،میری بھی کلاس میں ایک تھا۔لاکھ سمجھانے کے باوجود وہ شرارت کرتا تھا۔ اس ایک کی وجہ سے پوری کلاس بار بار ڈسٹرب ہو جاتی تھی۔