Pages 12
Views546
SIZE
1 / 12

ماموں کے ہوٹل پر رش معمول سے کہیں کم تھا اور مرچیں بریانی میں روزانہ سے زیادہ۔ میں نے ڈبل بریانی آرڈر کی تھی مگر اس وقت ایک پلیٹ ختم کرنا مشکل ہو گیا تھا۔

میں سی سی کرتا پانی کے گلاس کے گلاس چڑھاۓ جا رہا تھا ۔ جب ہی قریب سے کسی نے زوردار سلام جھاڑا اور ساتھ ہی میرے کندھے پر دھموکا جڑا۔

" اور جگر! کیا چل رہا ہے؟"

میں پانی پی رہا تھا ۔ اس بدتمیزی پر کھول کر رہ گیا۔ جی تو چاہا تھا آنے والے کو دو چار سنا دوں۔ مگر آنے والی کی شکل دیکھ کر تمام گالیاں حلق سے واپس اتار لیں۔ وہ میرا پرانا محلے دار اور پڑوسی امجد تھا۔

" آؤ۔۔۔۔ آؤ امجد۔" مین نے چہرے پر زبردستی کی مسکراہٹ سجائی۔

" دو پلیٹیں رکھی ہیں۔ کوئی آنے والا ہے کیا۔"

" نہیں منگوائی تو اپنے لیے ہی تھی ۔ مگر اب تو آ گیا ہے تو تو کھا لے۔" میں نے کمال فرخدلی دکھائی۔ اس کی وجہ میرا کھلا دل نہیں بلکہ بریانی میں جھونکی جانے والی کھلی مرچیں تھیں۔

" کیا بات ہے جگر! آج حاتم طائی کو کیسے شرمندہ کر دیا؟"

" یہ کیا بات کر دی تو نے تو تو اپنا یار ہے۔ یہ بریانی تجھ سے بڑھ کر تھوڑا ہی ہے۔" میں نے بانچھوں کو اور دائیں بائیں پھیلا لیا۔

" اچھا یہ بات ہے۔" اس نے ندیدے پن سے پلیٹ آگے کھسکائی۔

" چل تو پھر ایک گلاس لسی بھی پلا دے۔"

میرے کانوں تک چرے ہونٹ واپس اپنی جگہ پر آ گئے۔ سخت بدمزہ ہو کر میں نے میلے کپڑوں میں ملبوس لمبے قد کے بانس نما چھوٹے کو آواز دی۔ سخت بدمزہ ہو کر میں نے میلے کپڑوں میں ملبوس لمبے قد کے بانس نما چھوٹے کو آواز دی۔

امجد سے میری دوستی بہت پرانی نہیں تھی۔ مگر بد قسمتی سے میں اس چالاک اور عیار شخص کے چنگل میں پھنس گیا۔ اس نے مجھے شگفتہ کے ساتھ دیکھ لیا ' بس۔۔۔۔۔ اسی روز سے اس کی کمینگی کا آغاز ہوا۔

اسے دونوں چیزیں معدے میں اتارنے کے بعد کچھ یاد آیا۔ " ارے ہاں۔۔۔۔۔ ایک میسج ہے تیرے لیے۔"

" اچھا۔۔۔۔۔ کیا۔" میرے کان ایک دم کھڑے ہو گئے۔

" وہ اپنی شیگی ہے ناں۔"