SIZE
4 / 8

نیلے نیلے پھول سے کھل رہے ہیں. قدرت بھی عجیب عجیب کھیل کھیلتی ہے. میں نے دوپہر کو بھی وہ پتھر دیکھتا ہوں جی

چاہتا ہے کہ نماز پڑھنے لگوں. لے جانا اپنے ساتھ. اپنے چچا جی کو دینا. کہنا زمان دھوبی نے بھیجا ہے. وہ خوش ہوں گے.

خدا کے بعد ہم غریبوں کا ووہی تو سہارا ہیں".

"سہارا!" میں باقاعدہ چونک پڑا. مگر زمان آگے بڑھ گیا تھا.

دور سے اونٹ کتنا لمبا سا لگ رہا تھا. اسکی گردن میں لٹکی ہوئی گھنٹی یوں بج رہی تھی جیسےکوئی لڑکی گا رہی ہے.

ٹیب ایک مرغے نے بانگ دے ڈالی. پھر تو بانگوں کا تانتا بندھ گیا. قادرے کے باڑے میں ایک بکری منمنائی اور فورن بعد اسکا کتا

بھونکا. گاؤں نے جیسے انگڑائی سی لی جیسے ہمیں رخصت کرنے کے لیے اٹھ بیٹھا ہے. میں اندر بھاگا. پھر شیرو

دروازے پر سے پکارا. "بی بی جی، پردہ. میں اندر آکر بچوں کا صندوق اٹھا لوں".

"دو صندوق ہیں". میں نے شیرو کو ڈانٹا.

"ا ہا ہا ہا!" شیرو نے مجھے میری بغلوں میں ہاتھ رکھ کر مجھے پکڑا اور اپنے سر سے بھی اونچا لے گیا".

اب تو میرا چھوٹا سائیں بھی صندوق والا ہوگیا. تمہاری مونچھیں کب نکلیں گی. جلدی جلدی سے بڑے ہو جاؤ نا. پھر میں

تمہاری شادی پر ایسا ڈھول بجاؤں گا، ایسا ایسا ڈھول بجاؤں کا کہ تان سین نے بھی ایسا دھول نہ بجایا ہوگا. تم ہی تو مجھے غریب

کا سہارا ہو".

پھر ووہی سہارا، یہ سہارے کیا ہوتے ہیں آخر؟ میں اس سے پوچھنے لگا تھا کہ اس نے صندوق اٹھا کر کندھے پر رکھا اور باہر

چلا گیا. اندر کوٹھے میں امی ہمیں لپٹاتے کھڑی رہیں اور کچھ پڑھتی رہیں اور ہم پر چھوہ چھوہ کرتی رہیں اور روتی رہیں.

پھر شیرو دوسرا صندوق بھی لے گیا اور جاتے هوئے کہ گیا. "چلو جی"

جب ہم کجاوے میں بیٹھے تو جب ڈیوڑھی کے دروازے کے پیچھے سے امی کی روئی روئی آواز آرہی تھی. "الله انہیں خیر خیریت

سے پہنچانا. الله انہیں کوئی گزند نہ پھنچے . الله تیرے بعد یہی میرا سہارے ہیں.

سہارے!...... میں بھائی جان سے ضرور پوچھتا مگر ہم دونوں کے درمیان اونٹ کی کوہان حایل تھا، اور پھر مجھے ایک دم سے