Pages 7
Views7990
SIZE
1 / 7

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں، ایک بجھے هوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے هوئے تھے اور اندر بیٹے کی

نوجوان بیوی بدھیا درد زہ سی پچھاڑیں کھا رہی تھی اور رہ رہ کر اسکے منہ سے دلخراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام

لیتے تھے. جاڑوں کی رات تھی، فضہ سناٹوں میں غرق. سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہوگیا تھا.

گھسو نے کہا...."معلوم ہوتا گی نہیں. سارا دن تڑپتے ہوگیا، جا دیکھ تو آ".

مادھو درد ناک لہجے میں بولا، "مرنا ہی ہے تو مر کیوں نہیں جاتی. دیکھ کر کیا آؤں".

"تو بڑا بے درد ہے بے". سال بھر جسکے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا.اسی کے ساتھ اتنی بے وپھائی ".

"تو مجھ سے تو اسکا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا دیکھا نہیں جاتا".

چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بد نام. گھسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام، مادھو اتنا کام چھوڑ تھا گھنٹے بھر کام کرتا تو

گھنٹے بھر چلم پیتا. اس لئے اسے کوئی رکھتا ہی نہیں تھا. گھر میں مٹھی بھر بھی اناج موجود ہو تو انکے لئے کام کرنے کی قسم تھی.

جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتا، اور جب تک وہ پیسے رهتے،

دونوں مارے مارے پھرتے جب فاقے کی نوبت آجاتی تو پھر لڑکیاں توڑتے یا کوئی مزدوری تلاش کرتے. گاؤں میں کام کی کوئی

کمی نہ تھی. کاشتکاروں کا گاؤں تھا. محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے. مگر انکو لوگ صرف اس وقت بلاتے تھے جب دو

آدمیوں میں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو. کش دونو سادھو ہوتے تو انکو قناعت اور توکل کے لیے

ضبط نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی. یہ انکی خلقی صفت تھی. عجیب زندگی تھی انکی. گھر میں مٹی کے دو چار برتنوں کے سوا

کوئی اثاثہ نہیں، پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی کو ڈھانکے هوئے دنیا کی فکروں سے آزاد. قرض سے لدے هوئے گالیاں بھی کھاتے

اور مار بھی مگر کوئی فکر نہیں. مسکین اتنے کے وصولی کی مطلق امید نہ پر بھی لوگ انکو قرض دے دیا کرتے. مٹر یا الو کی فصل

میں سے اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھاتے. یا پانچ دس ایکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے. گھسو نے اسی زاہدانہ انداز ساٹھ

سال کی عمر کاٹ دی اور مادھو بھی سعادت مند بیٹے کی طرح باپ کے ہی نقش قدم پر چلا بلکے اسکا نام اور بھی روشن کر رہا تھا.

اس وقت بھی دونو الاؤ کے سامنے بیٹھے هوئے آلو بھون رہے تھے، جو کسی کھیت سے کھود لائے تھے. گھسو کی بیوی کو تو

مدت ہوئی انتقال ہوگیا تھا، مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی. جب سے یہ عورت آئی تھی. اس نے خاندان میں تمدن کی بنیاد ڈالی تھی.

پسائی کر کے گھاس چھیل کر وہ آٹے کا انتظام کر لیتی تھی. اور ان دونوں بے غیرتوں کا جہنم بھرتی تھی. جب سے وہ آئی یہ دونوں یہ

دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہوگئے تھے. بلکہ اکڑنے بھی لگے تھے کوئی کام کے لئے بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دگنی مزدوری

مانگتے. وہی عورت صبح سے درد زہ میں مر رہی تھی اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ یہ مر جائے تو آرام سے سوئیں.

گھسو نے آلو نکل کر چھیلتے هوئے کہا "جاکر دیکھ تو حالت کیا ہے"؟ اسکی چڑیل کا پھنساؤ ہوگیا اور کیا، یہاں سے اوجھا بھی ایک

روپیہ مانگتا ہے. کس کے گھر سے آئے".