SIZE
2 / 6

" میں زارش سلمان تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ گھر بھر کی لاڈلی۔ بھائیوں کی تو مجھ میں جان تھی۔ امن اور بابا بھی مجھ سے بے پناہ پیار کرتے تھے۔ میٹرک تک مجھے بھائی اسکول چھوڑنے جاتے تھے الگ الگ دن کو ڈیوٹی ہوتی تھی تینوں بھائیوں کی۔ وہ دن بہت اچھا تھا جب میں نے میٹرک پاس کیا اس دن بابا نے شاندار پارٹی رکھی گھر میں۔

پھر میرا داخلہ شہر کے مشہور کالج میں ہوا۔ کیونکہ ڈاکٹر بننا میرا شوق تھااور بابا کا خواب بھی' میں بہت محنت سے پڑھتی تھی وہاں کالج میں ہمارا الگ گروپ بنا ہوا تھا۔ جس میں میرے علاوہ پانچ اور لوگ تھے۔ کرن' رملا' علی' احمد' کاشف ان سب میں میری کاشف سے دوستی زیادہ تھی۔ کاشف بھی مجھے پسند کرتا تھا۔ اس طرح ایک دن میں لائبریری سے آئی تو وہ سب زور و شور سے کسی بات پر بحث کر رہے تھے۔

" کیا بات ہے۔ اتنا شور کیوں مچایا ہوا ہے ؟" میں کاشف کے قریب بیٹھ گئی۔

" چلو زارش آ گئی ہے اب وہ فیصلہ کرے گی ' چلو بتاؤ زاری اس بار ہم ویلنٹائن پر کہاں جائیں گے ۔" رملہ نے سب کو خاموش کروا کر مجھ سے پوچھا۔

" ویلنٹائن تو میں نے کبھی نہیں منایا تم لوگ جگہ کا فیصلہ کرو۔"

" کیا مطلب ہم جگہ کا فیصلہ کریں۔ تو کیا تم نہیں جاؤ گی؟" کاشف نے چونک کر مجھے دیکھا۔

" دراصل مجھے کہیں باہر جانے کی اجازت نہیں ہے اور اس طرح اس دن کع منانے کے لیے میں باہر جانے کا سوچ بھی نہیں سکتی۔

" لو یہ کیا بات ہوئی جس کے لیے میں نے یہ پروگرام بنایا ہے۔ جب یہ نہیں جا رہی ہے پھر کیا فائدہ ؟ پھر میں بھی نہیں جا رہا ہوں۔" کاشف نے ناراضی سے کہا۔

" کیا ہے زارش تمہارے بغیر تو زرا بھی مزا نہیں آۓ گا ۔ اس میں پوچھنے کی کیا بات ہے۔ ہم گھر والوں کو بغیر بتاۓ جائیں گے۔ گھر سے کالج آئیں گے اور پھر یہاں سے چلے جائیں گے۔" کرن نے تو پورا پروگرام ترتیب دے لیا۔

" کیا ہے یار چلی چلو نا گھر والوں کو کون بتاۓ گا۔" مجھے تذبذب میں دیکھ کر کرن نے میرا حوصلہ بڑھا دیا۔

" میں نے گھر والوں سے کبھی کوئی بات نہیں چھپائی تھی اور نہ میں کاشف کو ناراض کرنا چاہتی تھی۔ چلو ٹھیک ہے۔ مگر ہم جلدی واپس آئیں گے۔" میں نے کہا۔

" ہاں جلدی واپس آئیں گے۔" علی نے کاشف کو دیکھ کر آنکھ ماری' میرے دوست کے گھر ویلنٹائن پارٹی ہے۔ ہم سب وہاں جائیں گے۔ بہت مزا آۓ گا۔" سب اس بات پر متفق ہوۓ۔

گھر آ کر میں تھوڑی پریشان تھی۔ یہ سوچ کر اپنے آپ کو تسلی دی کہ میں کونسا غلط کام کر رہی ہوں۔ اگلی صبح منصوبے کے مطابق ہم کالج کے ساتھ والی دکان کے سامنے چلے گئے۔ وہاں رملہ اور کرن میرا انتظار کر رہی تھیں۔ تھوڑا آگے جا کر کاشف کی کی گاڑی کھڑی تھی۔ علی اور احمد بھی ساتھ تھے۔ " جلدی سے بیٹھو۔شکر ہے کہ تم آ گئی زاری۔"

" کیسے نہ اتی میں نے بھی بلایا تھا۔" کاشف نے کہا۔