SIZE
4 / 27

جو سب سے بڑا تھا. اور باپ کے ساتھ میڈیکل اسٹور سمبھالتا تھا. بڑی بیٹی فرسٹ ائیر پڑھتی تھی. اور چھوٹی میٹرک میں، ثانیا کی آمد

سے سب ہی بہت خوش تھے. اور پھر وہ مرعوب بھی تھے، کیوں کہ وہ خاندان کی پہلی لڑکی تھی جو اس طرح ایم اے کرنے دوسرے

شہر میں آئی تھی. خالہ نے یونیوورسٹی کے بارے میں اپنی تشویش کی اظھار کیا تھا، مگر ثانیا نے یوں ظاہر کیا تھا، وہ اکثر ہی

یونیوورسٹی آتی جاتی رہتی ہو. یہ ظاہر کرنا اسکی مجبوری تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کے اسکی گبراہٹ دیکھ کر وہ یونیوورسٹی کو کوئی

معیوب جگہ نہ سمجھیں. یا پھر اسکو تعلیم سے متنفر کرنے کی کوشش کریں. کیوں کہ اب دو سال اسکو ان ہی کے ساتھ رہنا تھا.

یہی وجہ تھی کے داخلے سے داخلے کے لئے لے جانے کے لئے اس نے نہ تو اپنی کسی کزن کو ساتھ لیا تھا، اور نہ ہی احمد سے کوئی

مدد مانگی تھی جو صبح اسے اپنی موٹر سائیکل پے یونیوورسٹی چھوڑ کے گیا تھا. ثانیا کو احمد سے زیادہ مدد اس لئے بھی نہیں مل سکتی

تھی، کیونکے وہ خود بھی پہلی دفع یونیوورسٹی آیا تھا. وو ایف اے کے بعد ہی تعلیم کو خیرباد کہ چکا تھا.

سو، اس نے سوچا تھا کے ایک بار یونیوورسٹی پوھنچنے کے بعد وہ خود ہی آفس ڈھونڈ کر اپنا کام کر لے گی. مگر یونیوورسٹی کوئی چھوٹا

سا اسکول یا کالج نہیں تھا. وہ وہاں داخل ہوتے ہی جگہ جگہ لڑکوں کے گروپ کھڑے دیکھ کر بےتحاشا گھبرائی تھی. اسے دور دور تک کوئی

آفس کا نام و نشان نظر نہیں آرہا تھا. اور وہ آگے جانے کے بجاتے وہی کھڑی ہوگی تھی. اتنی ہمّت اس میں بحرحال نہیں تھی، کے وہ

لڑکوں کے کسی گروپ میں جا کر مدد مانگے اور پھر اسے اچانک کومیل نظر آیا تھا.

جب وہ چلتی ہوئی بےچینی کے عالم میں پارکنگ کی طرف آئی تھی. اسے وہ شکل سے شریف لگا تھا، اور اسے یہ بہت بڑی خوش فہمی رہتی تھی

کے وہ بہت بڑی چہرہ شناس تھی. سو اسے اس اکیلے لڑکے سے مدد مانگنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوئی تھی. اور پھر کومیل کے طریقے

ایسے تھے، کے اسکو کومیل کی شرافت پے یقین آگیا.

وہ دوسرے لڑکوں کی طرح اسے دیکھنے سے گریز کر رہا تھا. اس نے اس پر صرف ایک یا دو ہی نظر ڈالی تھی. وہ بھی تب جب وہ اس سے

مدد مانگ رہی تھی. اس کے بعد جتنی دیر وہ اسکے ساتھ رہی تھی، وہ اسے دیکھے بغیر اسکی باتوں کے جواب دیتا رہا.

ثانیا کو اسکے ساتھ رهتے ہوے بہت تحفظ کا احساس ہوتا رہا.

چند لمحوں پہلے تک لڑکوں کی موجودگی اور نظروں سے پیدا ہونے والے خوف اب اس کے لئے اتنے جان لیوا نہیں تھے. گھر آکر اس نے یوں

ظاہر کیا تھا، جیسے اس نے کسی کی مدد کے بغیر ہی آفس ڈھونڈ لیا تھا. وہ بتانا قتئع آفورڈ نہیں کر سکتی تھی، کے اس نے کسی لڑکے سے

مدد لی تھی. اور پھر جس دن لسٹیں لگیں تھیں، وہ خود نہیں گئی تھی اس نے احمد کو کہا تھا کے وہ اسکا نام دیکھ آے. اس میں اتنی ہمّت

نہیں تھی ک وہ خود اپنا نام دیکھ آے. نام نظر آتا یا نہیں آتا دونو صورتوں میں اس نے رونا شروع کر دینا تھا. یہ داخلہ اس کے لئے ایسا

ہی نازک ور حسساس معاملہ تھا.

وہ بےتحاشا دعائیں مانگتی رہی تھی، اور جب احمد نے گھر آکر اسے داخلے کے بارے میں بتایا، تو وہ فورا نوافل پڑھنے بیٹھ گئی.

احمد اسکے لئے یونیوورسٹی سے فیس فارم بھی لے آیا تھا. اب وہ ایک بار پھر یونیوورسٹی میں اکیلی فیس جمع کروانے ک لئے چل پڑی.

لیکن وہاں اتنا رش تھا ک اسکی ہمّت ہی جواب دے گئی، لمبی قطروں میں کھڑے ہونے کے بجائے وہ ایک طرف کھڑی ہو کر تشویش

کے عالم میں اس مجمعے کو دیکھ رہی تھی. اس نے سوچ جب رش کم ہو جاتے گا، وہ کسی بھی قطار میں کھڑی ہو جاتے گی، مگر