Pages 7
Views15275
SIZE
1 / 7

جیسے ہی ارسلان میاں اپنی سفری بیگ کندھے پر لٹکاتے اور سوٹ کیس دھکیلتے گھر کے کھلے صحن میں داخل هوئے تو

بے اختیار ٹھٹھک کر رہ گئے.

لڑکیاں چمکیلے کپڑے پہنے دائرہ بنانے بیٹھی ڈھولک کی تھاپ پر نجانے کون سا گیت گا رہیں تھیں. یوں بھی نگر نگر پھر آنے کے بعد

اتنی اجنبی زبانیں کانوں میں روس گھول چکی تھیں کہ ایک لمحے کو اپنی زبان بھی اجنبی لگی. چند سیکنڈ غور کرنے کے بعد بھی جب

گیت کا پتا نہیں چلا تو انہوں نے اس پر دو حرف بھیج کر اگلے منظر پر غور کرنا شروع کر دیا. سامنے ہی تو منیا کی کھلا زیتون سرخ

بھڑکیلے بنارسی سوٹ اسی رنگ سے منہ کو لتھیڑے هوئے خوب ہنس رہیں تھیں.

انکے ساتھ شاید کوئی دلہن بیٹھی تھی، شاید نہیں یقینا وہ دلہن ہی تھی. جسے زیتون خالہ باقاعدہ بغل میں دباتے بیٹھی تھیں. پہلی نظر میں تو

ارسلان میاں یہ سمجھے کہ زیتون خالہ نے عقد ثانی کر لیا ہے مگر خالو حیات کی زندگی میں نکاح پر نکاح ایک عظیم گناہ!

"یہ بھی تو ہو سکتا ہے خالو حیات ان آٹھ ماہ میں اس دار فانی سے اٹھ چکے ہوں، تو عدت کے چار ماہ دس دن نکل کر زیتون خالہ کا شرعی حق

بنتا ہے عقد ثانی."

وہ خود ہی سر ہلا کر رہ گئے. اگلا مرحلہ انکو خاصہ دشوار لگا اب زیتون خالہ سے خالو کی موت کا افسوس کریں گے یا ان کے عقد ثانی کی

مبارک دیں گے؟ مگر انکی بغل میں جو دلہن منہ چھپاتے بیٹھی ہے وہ کون ہے؟ اگلا سوال اور بھی الجھن کا مارا ہوا تھا.

"لو بھئی مبارک ہو! سیلانی بھائی بھی بہن کی خوشی میں شامل ہونے آگئے. اس سے بری خوشی اور کیا ہوگی. کسی نے انکو دیکھ کر آواز لگائی.

"بہن کی خوشی". وہ شاک کھڑے رہ گئے.

لیکن زیتون خالہ انکی بہن کب سے ہوگئی بھلا؟ عجیب احمق تھا جملہ کہنے والا بھی.

"نہیں، مگر یہ تو شاید اس دلہن کے لئے کہا یا تھا ایک اور خیال ذھن میں کوندا.

"میری بہن؟ مگر میری تو کوئی بہن ہی نہیں، اسکا مطلب ہے ابّا مرحوم نے کہیں دوسری شادی بھی کر رکھی تھی، ان ہی کی یہ بقیہ نشانی ہوگی

جسکو اس شریف خاندان نے سینے سے لگا لیا مگر میں تو اس لڑکی کو بہن قبول نہیں کروں گا. کوئی نوٹنکی ہی نہ ہو. ابا میاں کے جھوٹے نکاح

کی کہانی گھڑی ہو. یہ باقی سب تو احمق ہیں میں نے گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے.

"وہ "بہن" کا تیا پنچا کرنے والے انداز میں آگے بڑھے.

"ارے جگہ دو کمبختو، بہن کے پاس بھائی کو. اب نجانے زیتون خالہ نے کن کمبختوں کو دھکیل کر اپنے قریب ارسلان میاں کی جگہ بنائی.

وہ خشمگین نظروں سے دلہن بنی بہن کو گھور رہے تھے.

"منیا! دیکھ لو سیلانی بھائی بھی آگئے تمہاری خوشی میں سہمل ہونے کے لیے." زیتون خالہ نے دلہن کے کان میں باآواز بلند سرگوشی کی.

دھت ترے کی.....یہ تو منیا ہے اور میں کیا سمجھا.