SIZE
3 / 10

بادشاہ نے کہا ." اچھا تو اتنی سمجھدار ہے تمہاری بیٹی تو اس سے کہو ان تیس انڈوں سے کل شام تک تیس چوزے نکال کر جوان مرغ بنا کر ہمارے دربار میں لاۓ."

بوڑھا کسان روتا دھوتا سر پٹختا گھر پہنچا اور اپنی بیٹی کو بادشاہ کا فرمان سنایا . بیٹی نے سن کر کہا . " پیارے بابا ! آپ زرہ بھر نہ گھبرائیں ."

کسان بولا . " کیسے نہ گھبراؤں بیٹی ؟ بھلا کوئی کیسے کل تک ان سے تیس مرغ تیار کر سکتا ہے ؟"

بیٹی نے اپنے باپ کو بہت تسلی دی اور ان انڈوں سے طرح طرح کے مزیدار پکوان بنانے میں جت گئی . اس نے ان انڈوں کا لذیذ سالن اور حلوہ تیار کیا . بہت دن بعد باپ بیٹی نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا .

ستارہ اپنی بڑی بڑی آنکھیں کھولے دادا کی رضائی میں چھپی ہوئی کرگت کے ہر گھر میں سنائی جانے والی لوک کہانی سن رہی تھی .

" اب تم بتاؤ ستارہ بیٹی ' کہ صبح تک کسان کی بیٹی نے کیا پیغام بادشاہ کو بھیجا ؟"

وہ بولی "بابا ! جا کر بادشاہ سے کہیے کہ ان چوزوں کے لئے آج بیج بو کر دوپہر تک تیار ہونے والا باجرہ چاہیے . اگر ان کو زرہ بھر بھی پرانا باجرہ دیا گیا تو وہ نہیں کھائیں گے اور مر جائیں گے ."

فر فر بولتی ستارہ کے چہرے پر بوڑھے کسان کی بیٹی جیسی دانائی اور حکمت صاف دیکھی جا سکتی تھی . لیکن صرف دانائی کے سر پر کسمت سے نہیں لڑا جا سکتا . اگر دنیا کے سب مسلے دانائی سے حل ہو سکتے تو ستارہ کے باپ کو موت نہ لے جاتی .وہ اپنی جواں سال بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو چھوڑ کر شکار کے لئے گیا تھا . جہاں وہ اپنے ہی ساتھ کی گولی کا شکار ہو گیا تھا .وہ بیحد دانا اور بہادر تھا . لیکن قسمت کے سامنے نہ اسکی دانائی کام آئی اور نہ ہی بہادری .

اس کے بعد اس کا خاندان اس کے بوڑھے باپ کی سرپرستی میں زندگی گزارنے لگا . گاؤں میں انکی بہت سی زرخیز زمین تھی . ان کے باڑوں میں دودھ دینے والی گائیوں کی بہتات تھی . ان کے پاس اعلی نسل کے گھوڑے تھے . ان سب کی کثرت بھی ستارہ اور نذر کی زندگیوں سے یتیمی کا داغ نہیں مٹا سکتی تھی . زندگی کرگت کے گھر گھر میں سنائی جانے والی لوک کہانی نہیں تھی . جس میں کوئی نہیں مرتا تھا اور سب لازمی ہنسی خوشی رہنے لگتے تھے .

" ستارہ ! ستارہ ! " اسے کندھوں سے پکڑ کر اپنی طرف متوجہ کرنے والی زویا تھی .

" مجھے ابھی خالہ ادینہ نے بلوایا ہے ستارہ ! تم نے مجھے بتانے کی ضرورت نہ سمجھی ." اس نے شکوہ کیا .