SIZE
3 / 23

چھتیس انچ کی پلازمہ اسکرین پر بہت سے رنگ اور شہابی چہرے جگمگا رہے تھے' مگر وہاں کوئی بھی اسکرین کی جانب متوجہ نہ تھا۔ اس کی سکے والی پنسل بڑی تیزی اور مہارت سے کاغذ پر کچھ بنا رہی تھی۔ گھنگریالے بال گیلے ہونے کے باعث کمر پر کھلے پڑے تھے' جن سے چند ایک لٹیں اس کے چہرے پے گرتی آنکھیں چھپا رہی تھیں۔ وہ بار بار انہیں کان کے پیچھے اڑستی ' پورے انہماک سے پنسل چلاۓ جا رہی تھی۔ اس کا ارتکاز لمحے بھر کو نہیں ٹوٹا تھا' مگر ٹوٹا تو بہت ٹوٹا۔ اس اسکرین پر بہت جوش میں ایک نام پکارا جا رہا تھا۔ ایک بڑا نام اور اس کا کام' ۔۔۔ کالے سکے والی سرخ پنسل چلنے سے انکاری ہو گئی۔ اس نے باقاعدہ سر گھما کر اپنی پشت پر لگی پلازمہ اسکرین کو دیکھا جہاں بڑے پیمانے پر فیشن شو چل رہا تھا۔ فیشن انڈسٹری کا بڑا نام' اپنے کام اور ماڈلز کے ساتھ تالیوں کی گونج میں ایک بڑے اسٹیج پر کھڑا تھا۔ گیارہ سالہ شہر ماہ کو فیشن انڈسٹری کی کوئی سمجھ بوجھ نہیں تھی' مگر یہ سب اسے چونکا رہا تھا' الجھا رہا تھا' اتنا اور اس حد تک کہ اس کا اپنا کام کہیں بیچ میں رہ گیا تھا۔

" رمیض بھائی! یہ ڈیزائنر کیا ہوتا ہے؟" اس نے سامنے صوفے پر لیٹ کر کتاب میں گم اپنے اٹھارہ سالہ تایا زاد سے پوچھا۔ سر کتاب کی دنیا سے اٹھاتے رمیض کو اس مداخلت پر سخت کوفت ہوئی۔ ایک نظر پلازمہ اسکرین پہ پڑی تو دوسری استعجابیہ دیکھتی شہر کے منہ کے زاویے عجیب ٹیڑھے میڑھے سے ہو گئے۔

" جو کوئی آئیڈیا ڈیزائین کرے پھر اسے۔۔۔ بنا بھی ڈالے۔" بے زاری سے دیا گیا جواب۔۔۔۔

"" مطلب؟" وہ پنسل انگلیوں میں پھنساۓ' ہاتھ ٹھوڑی تلے رکھے برے اشتیاق سے پوچھ رہی تھی۔ گویا رمیض کی بے زاری کو محسوس بھی نہ کیا ہو اور اگر محسوس کر بھی لیا ہو تو کچھ اہمیت نہ دی ہو۔

" اپنا خیال کاغذ یا کمپیوٹر پہ بنا کر اسے حقیقت میں ڈھالتے سچ کر دکھاؤ۔" وہ کچھ دیر سوچ کر بولا۔۔۔۔۔ تو اس نے شہر کے لب " واؤ" والے انداز میں کھول دیے۔

" ڈیزائین تو بہت کمال کا ہوا نا پھر۔۔۔۔" وہ خاصی سے زیادہ مرعوب نظر آ رہی تھی۔

" ہوتا ہو گا۔" وہ پھر سے کتاب کھولنے لگا تھاکہ وہ اپنی جگہ چھوڑ کر اس کے برابر آ بیٹھی۔

" کس کس کے ڈیزائین ہوتے ہیں؟"

" ہر چیز کے۔۔۔ کپڑوں سے لے کر جیولری حتی کہ گھر تک کے ۔" وہ کچھ سوچتے ہوۓ اٹھی تھیتو رمیض کو لگا کے اس کے سوالات کا سلسلہ ختم ہوا۔ وہ پھر سے کتاب اٹھانے کا ابھی ارادہ کر ہی رہا تھا کہ وہ اپنی اسکریپ بُک ' جسے وہ اکثر لیے پھرتی تھی' اٹھاۓ پھر سے چلی آئی۔

" کیا ڈیزائینر ایسے ڈیزائین بناتے ہیں؟" رمیض جو پڑھنے کے ارادے سے بڑی فرصت سے بیٹھا تھا' جانتا تھا ک اس گھر کی شہر ' اگلے ایک گھنٹہ اسے کچھ نہیں پڑھنے دے گی۔ اس نے کوفت کا شکار ہوتے ہوۓ ایک نظر اس اسکریپ بک پہ ڈالی اور نظر ہٹانا بھول گیا۔ وہ بے یقینی سے صفحے پہ صفحہ پلٹتا گیا۔ عروسی مغربی طرز کے ڈیزائین جن کی فال بہت خوبصورتی سے آبشار جیسی اوپر سے نیچے گرتی' بل کھاتی' مختلف رنگوں ' کاموں سے مزین ۔۔۔ ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت اور شاندار۔۔۔

" شہر! یہ سچ میں تم نے بناۓ ہیں؟" وہ اس درجہ مہارت پر حیران تھا اور شہر انجان۔

" آپ کو پسند آۓ؟" وہ اپنے ڈیزائین دکھاتے معصومیت سے پوچھ رہی تھی۔