SIZE
1 / 5

داور کے کمرے سے آتے میں میں مسلسل اضافہ ھوتا جا رہا تھا۔ اور جہاں آرا کی پریشانی بھی اسی قدر بڑھتی جا رہی تھی۔ صرف داور کی ہی نہیں بلکہ کہ اس کی بیوی کی آواز بھی کافی واضح تھی۔ محلے والوں کا سوچ سوچ کر انہیں اندر ہی اندر شرمندگی گھیر رہی تھی۔

ان کی بہو نے سویرے داور سے ماں کے گھر جانے کی فرمائش کی تھی۔ داور جلدی میں تھا اس لیے بات ان سنی کر دی اور آفس کے لیے نکل گیا۔ ردا نے نہ صرف اس کے جانے کے بعد شور مچایا بلکہ فون کر کے ماں کو بھی بلوا لیا۔ اور رو رو کر ان کو ساری بات بتائی۔ جہاں آرا اسے سمجھاتی ہی رہیں۔

شام کو تھکا ہارا داور گھر آیا تو ردا اور اس کی ماں تو جیسے اس کے لیے ہی بیٹھی تھیں۔ کمرے میں جاتے ہی دونوں ماں بیٹی نے اسے خوب سنائیں۔ تھکا ہارا داور کچھ دیر تو خاموشی سے سنتا رہا مگر اسے بھی غصہ آ گیا۔ اب وہ بھی ان کے مقابلے پر آ گیا۔ ساتھ والے گھروں کی عورتیں چھتوں پر چڑھ چڑھ کے تماشا دیکھنے لگیں۔ جہاں آرا دھڑکتا دل لیے کھلے دروازے سے اندر چلی آئیں۔

"ارے خدا کی پناہ! ابھی تو ایک ماہ بھی نہیں ہوا تم لوگوں کی شادی کو اور میری بیٹی کو اتنا کچھ سہنا پڑ رہا ہے۔" جہاں آراء کو دیکھتے ہی گلزار بیگم مزید تیز ہوئیں۔