Pages 10
Views435
SIZE
1 / 10

کھڑکی کھولتے ہی وہ یوں ہی خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹی تھی جیسے اس نے کھڑکی میں کسی ناگن کو دیکھ لیا ہو' شاید اس نے ناگن کو ہی دیکھا تھا یا پھر کسی ناگن کی ناگن سی چوٹی پر اس کی نگاہ پڑی تھی۔

وہ خوف زدہ ہو کر پلٹ گئی تھی اور وسیم کی رائٹنگ ٹیبل تک چلی آئی تھی۔ رائٹنگ ٹیبل پر رکھے شیشے کے نیچے وسیم کی پاسپورٹ سائز تسویر پڑی تھی۔ ماہرہ کی نظریں تصویر میں وسیم کی نظروں سے ملیں۔ اسے یوں لگا جیسے تصویر میں وسیم کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ہو اور اس میں معنی در آۓ ہوں۔ وہ اضطراب کے عالم میں اپنی ہتھیلیاں رگڑنے لگی۔ پھر وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو کر سوچنے لگی کہ شاید اس نے جو کچھ دیکھا وہ نظر کا دھوکہ تھا ۔ شاید اس نے کسی دوسرے فلیٹ کی کھڑکی دیکھی۔ شاید اس نے غلط سمجھا ' حقیقت کچھ اور تھی۔ شاید وہ شمائلہ نہیں کوئی اور تھی!

کیا مشکل ہو! شوہر کی محبوبہ کا سامنا کرنا کیسا اذیت ناک مرحلہ ہے۔۔۔۔۔ وہی عورت سمجھ سکتی ہے جس کے شوہر کی کوئی محبوبہ ہو اور اس سے سامنا بھی ہوا ہو۔

ماہرہ ڈرتے ڈرتے پھر کھڑکی تک گئی۔ شک شبہات کے سب بلبلے ہو گئے تھے۔ یقین ی سطح ہموار ہو گئی شمائلہ اپنی کھڑکی میں کھڑی مسکرا رہی تھی ۔ اس نے نیلے رنگ کا لباس پہنا ہوا تھا۔ جس میں اس کا چاندنی سا بدن دور سے ہی دمکتا نظر آ رہا تھا۔ اس کے سیاہ بالوں کی ناگن سی چوٹی اس کے سینے پر پڑی تھی اور اس کے لبوں کی وہ منہ چڑاتی مسکراہٹ ماہرا کو اتنی دور سے بھی دکھائی دے رہی تھی۔

وہ تڑپ کر وہاں سے ہٹ گئی اور کسی ہاری ہوئی جنگ کے شکست خوردہ بادشاہ کی طرح سر ایک طرف کو گرا کر کرسی پر بیٹھ گئی۔

کس قدر مطمئن ہو گئی تھی زندگی۔ وقت کی شاہراہ پر مسرورو مصروف انداز میں رواں دواں تھی۔ سب کچھ ٹھیک ہو گیا تھا ۔ وسیم کی بے مہری میں واضح کمی آئی تھی۔ اب وہ اکثر اس سے مسکرا کر بات کرتا تھا۔ کبھی کبھار اسے گھمانے پھرانے کے لیے باہر بھی لے جاتا تھا۔ گھر لوٹتے وقت اس کے ہاتھوں میں پھلوں کے لفافے ہوتے تھے بلکہ کبھی کبھار تو وہ پکا پکایا کھانا بھی لے اتا تھا۔ ماہرہ کو اس کے اچھے رویے کی عادت ہو گئی تھی۔ اس کا سابقہ رویہ اس کی یاداشت سے محو ہوتا چلا گیا۔ اور۔۔۔ اور۔۔۔ سال بھر ہی گزرا تھا کہ وہ پھر سے اسی کھڑکی میں نظر آ رہی تھی۔