SIZE
3 / 7

" بات یہ ہے پیارے ..."اس نے سیگرٹ کی راکھ جھاڑتے ہوے کہا ." شادی بہت مہنگی ہے اور گناہ بہت سستا ہے ." اس نے سیگرٹ کو فرش پر پھینکا 'جوتے سے مسلہ اور چاۓ پیے بغیر چلا گیا .

ناصر وہیں بیٹھا سیگرٹ کی راکھ کو دیکھتا رہا ...

اسے لگا جیسے کسی نے اسے راکھ بنا کر جوتے سے مسل دیا ہو .

ناصر کی ماں کا اس کے بچپن میں ہی انتقال ہو گیا تھا . اس کے باپ نے دوسری شادی کر لی مگر پروین ایک روایتی سوتیلی ماں ثابت نہ ہوئی تھی .اس نے ناصر کو بلکل اپنی سگی اولاد کی طرح پالا.ناصر کو بھی ان سے بہت محبت تھی .پروین کی دو بیٹیاں ہوئیں جنہوں نے ہنسی خوشی وقت گزارا ... ان کے مالی حالات اتنے اچھے نہ تھے ' مزید ستم یہ ہوا کے ابھی ناصر کی تعلیم جاری تھی کے اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور ماں ور دو بہنوں کی زمہ داری اس پر آ گئی .اس نے تعلیم جاری رکھنے کی کوشش کی مگر اس کوشش میں کامیاب نہ ہو سکا اور گھر چلانے کے لیا تگ و دو کرنے لگا ... اسی دوران اسکی زندگی میں ذآرا آئ لکن وہ ایک حقیقت پسند لڑکی تھی اس نے اپنے خواب ناصر کی غربت اور زمہ داریوں پر قربان کرنے کی بجاے اپنی را ہ ہی بدل لی .کوئی پروفیشنل ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے وہ کوئی مناسب نوکری تلاش نہ کر سکا اور چھوٹی موٹی جابز کرتا رہا . جوں توں کر کے بہنوں کی شادیاں ہوئیں اب اماں کی خوا ہش تھی کے ناصر کی بھی شادی ہو جائےوہ خود بھی بیمار رہنے لگی تھیں اور گھر کی زمہ داری سمبھالنا ان کے لیے مشکل ہو گیا تھا .