SIZE
3 / 4

بہت دن پہلے اسے بابا کو اسپتال لے کر جانا تھا۔ " چاچا آپ ہمیں اسپتال لے جائیں گے؟‘‘ اس نے بڑی آس سے غلام چاچا سے پوچھا تھا، جن کے پاس اپنی ذاتی گاڑی تھی۔

" بھئی مجھے تو اپنے بڑے ضروری کام ہیں، میں اسپتال کے چکر نہیں کاٹ سکتا۔ تمہارے بابا تمہاری ذمہ داری ہیں، تم ہی سنبھالو۔"

اور وہ یہ نہیں پوچھ پائی کہ آپ لوگ تو میرے بابا کی ذمہ داری نہیں، پھر کیوں بنا ماتھے پرشکن لاۓ سنبھال رہے تھے۔ اتنے سالوں سے۔۔۔۔۔۔ بنا کچھ

کہے ۔۔۔۔۔۔ کوئی احسان جتائے .......... اس دن غلام چاچا کی گاڑی بمشکل چوری ہوتے ہوتے بچی۔ جانے کیوں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ بابا کو رکشے پر لے گئی تھی۔

وہ بے حد غمگین رہتی تھی۔ اسے لگتا تھا اللہ تعالی اس سے خفا ہیں۔ اس لیے اس کی دعاؤں کا جواب نہیں دیتے تھے۔ اس کی نمازوں میں بد دلی آ گئی تھی جیسے فرض سمجھ کر مارے باندھے پڑھ رہی ہو۔ کبھی کبھی اسے لگتا اس کے کسی عمل کی وجہ سے اللہ تعالی اس سے سخت خفا ہیں۔ وہ گڑ گڑا کر روتی اور اپنے ہر گناہ کی معافی مانگتی۔ وہ پہلے جیسی رطابہ جیسی رہی ہی نہ تھی ۔ اپنے حالات سے شکوہ کناں۔۔۔۔۔ اپنی تقدیر سے خفا خفا۔ اللہ تعالی سے ڈھیر سارے شکوے اور بدگمانی لیے ہوئے۔ وہی کیوں ....... ؟ اس کے ساتھ ہی کیوں ۔۔۔۔ وہ منتظر تھی اللہ تعالی کچھ تو کریں گے ۔ مگر ہرسو ایک گھمبیر چپ کا ڈیرا تھا۔ اس کی نمازیں محض فرض پر مبنی ہوتی جا رہی تھیں۔ مختصر سی تلاوت تشریح و ترجمے کے۔۔۔۔۔ مگر جانے اس دن کیا ہوا وه قرآن پڑھنے لگی تو دل کو آرام اور سکون سا ملا اس سے آگے وہ پڑھ نہیں پائی تھی۔ جیسے سارے گمان کے بادل چھٹ گئے تھے۔ دل ہلکا پھلکا سا ہو گیا تھا۔ سارے اندیشے چھٹ گئے تھے۔ اس نے قرآن کو اپنے سینے سے لگایا تھا اور بابا کے کمرے میں چلی گئی تھی۔

”بابا۔۔۔۔۔" اس نے آہستہ سے پکارا تھا۔

" اللہ کبھی ان کی حالت نہیں بدلتا جو اپنی حالت خود نہیں بدلتے ۔ مومن ایک سوراخ سے بار بار نہیں ڈسا جاتا۔ اور مجھے پلیز معاف کیجیے گا بابا! صلہ رحمی اپنی جگہ مگر آپ نے اپنی جیب میں کھوٹے سکے پال رکھے ہیں ۔ وہ محض بوجھ ہیں رشتوں پر، جب ہم کسی کو بے لوث، بے ریا نوازتے رہتے ہیں تو وہ عادی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہی حال ان سب کا بھی ہے اور مجھے اب اپنے حساب سے انہیں ڈیل کرنا ہے۔"

" بابا!مدد کرنی چاہیے مگر ایک حد تک مدد اوران کی جنہیں واقعی ضرورت ہو۔" اس کا لہجہ مضبوط اور انداز دو ٹوک تھا۔

اسی رات اس نے سب کو بڑے عرصے کے بعد بڑی بیٹھک میں بلایا تھا جو ایمرجنسی میٹنگز کے لیے ہی مخصوص تھی۔

" جب تک ابا کی نوکری رہی گھر میں ہر چیزکی ریل پیل رہی، مگر اب ان کی پنشن میں گزارا مشکل سے مشکل ہو رہا ہے۔ میری آپ سب سے گزارش ہے کہ آپ اپنے اپنے پورشن کے باورچی خانے کھولیے جو جانے کب سے بند پڑے ہیں۔" اس نے دبنگ انداز میں کہا تھا۔

" بھائی صاحب کے ہوتے ہوئے تم کب سے فیصلے کرنے لگیں؟" چھٹن چاچا غصے سے گویا ہوۓ تھے۔ باقی سب بھی اسے قہر بار نظروں سے گھور رہے تھے۔ مگر وہ گھبرائی یا ڈری نہیں۔

" آپ سب کو شاید علم نہیں کہ نور منزل میرے نام پر ہے اور مجھے اپنے گھر کے متعلق فیصلے کرنے کا پورا پورا اختیار ہے۔" سب کو چپ لگی تھی۔