Pages 11
Views198
SIZE
1 / 11

ایک شادی کی تقریب میں چاندنی مسز شاہ کو اتنی پسند آئی کہ وہ فورا پوچھ گچھ کر کے اس کے گھر رشتہ لےآئیں۔ اتنے اونچے گھرانے سے رشتہ آنے پر سبھی حیران و پریشان تھے وہ لوگ مل اونر تھے اور یہاں سواۓ شکل اور شرافت کے کچھ نہیں تھا۔ چاندنی کے گھر والوں نے انکار تو نہیں کیا لیکن سوچنے کے لیے کچھ مہلت مانگ لی۔ یہ رشتہ قبول کرنے نہ کرنے میں بہت سی قباحتیں تھیں سب سے پہلی بات یہ کہ وہ لوگ اتنے بڑے لوگوں کے شایان شان نہ تو جہیز دینے کی پوزیشن میں تھے اور نہ ہی عالیشان شادی کی حیثیت رکھتے تھے۔ اگر ایک طرف اتنا شاندار رشتہ ٹھکرانا کفران نعمت تھا تو دوسری طرف اتنے زبردست رشتے کو قبول کرنا بھی لمحہ فکریہ تھا۔

" دیکھو رقیہ' اتنے بڑے لوگوں میں رشتہ کرنے پر تو میرا دل نہیں ٹھک رہا ' ہماری بچی ان کی حیثیت کے مطابق جہیز لے کر نہیں جاۓ گی فوری طور پر ان کے ماحول اور مزاج میں گھل مل نہیں پاۓ گی تو اٹھتے بیٹھتے اسے اس کی کم مائیگی کے طعنے دئیے جائیں گے۔ غریب گھر کی لڑکی ہونے کی وجہ سے اسے دب کر رہنا ہو گا' اس طرح بچی احساس کمتری کا شکار ہو جاۓ گی۔" دادی نے اپنے خدشات ظاہر کیے تو امی بھی سوچ بچار میں پڑ گئیں۔

" اماں آپ کے سب خدشات اپنی جگہ درست سہی لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ وہ لوگ خود چل کر رشتہ جوڑنے آۓ ہیں۔ ہم نے خود اور نہ کسی کے ذریعے انہیں اپنی طرف کھینچا ہے وہ ہمارے بارے میں چھان بین کر کے ہی آۓ ہوں گے اور اگر انہیں ہمارے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہوں گی تو ہمارے گھر آ کر ہمارے حالات کا بخوبی اندازہ ہو گیا اس کے باوجود بھی ہماری بیٹی سے رشتہ جوڑنا چاہتی ہیں۔ اب آپ یہ سوچیے اماں کہ یہ تو اللہ کی مرضی اور اس کا حکم ہے ناں کہ اس نے ان لوگوں کو ہمارے گھر میں بھیجا' اللہ جوڑا بنا کر ہی دنیا میں بھیجتا ہے جب دونوں فریقین کے درمیان مالی اور سماجی فرق زیادہ ہوتا ہے تو اللہ اپنی رحمت اور قدرت سے دونوں کے دلوں کو جوڑ کر قریب کر دیتا ہے یہاں پر بھی بس یہی معاملہ ہے انہیں اللہ نے ہمارے گھر بھیجا ہے کیونکہ وہ جوڑا بنا چکا ہے ورنہ وہ جس مقام پر ہیں انہیں کسی کے گھر جانے کی کیا ضرورت۔ رشتے تو خود ان کے آگے پیچھے گھومتے ہوں گے لہذا میں نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے کہ ہم انہیں ہاں کر دیں گے' اللہ نے معاملہ بنایا ہے آگے بھی وہی سنبھالے گا۔"

پھر دادی کے خدشات اور واہمات اور امی بابا کے یقین اور اعتماد کے ساتھ چاندنی شادی ہو کے شاہ ولا میں آ گئی۔ شادی اور چاندنی کے گھر والوں کی حیثیت کے مطابق سادگی سے ہو گئی لیکن ولیمہ بہت شاندار تھا۔ شادی کے بعد دعوتوں کا سلسلہ شروع ہوا' شاہ فیملی کے تعلقات بھی انہی کی طرح