SIZE
4 / 6

کرنے لگی تھی ۔ ایک ایک پیسہ جوڑتے اور کماتے ہوۓ کس طرح میرا رواں رواں دکھتا یہ صرف میرا دل جانتا' روزی روٹی کے چکر میں کس طرح پیسہ بہانا پڑتا ہے یہ اس عورت کو احساس ہو جاتا تو ملنگ بنی اپنی زندگی نہ جی رہی ہوتی۔ کرن کمرے میں داخل ہوئی تھی' ہاتھ میں دو تین استعمال شدہ جوڑے تھے۔

" بابا آپ نے تو کپڑے بھی نہیں سلواۓ' کل کون سا سوٹ پہنیں گے۔" میں نے ایک نظر اس کے معصوم چہرے پر ڈالی ۔ پینتالیس سال کی عمر میں میں خود کو بہت عمر رسیدہ اور ضعیف الاعصاب محسوس کر رہا تھا۔

" میری بچی پہن لے گی سمجھو میں نے پہن لیا اور تم آرام کرو بیٹا میں کپڑے پریس کر لوں گا جاؤ شاباش۔"

" کام کے بعد آرام ہی کرنا ہے' میں یہ سوٹ پریس کر رہی ہوں'میں نے اپ کی نئی ٹوپی وغیرہ سب الماری کے دوسرے خانے میں ترتیب دے دیے ہیں۔" اس نے ایک انگوری کلر کا سوٹ میرے سامنے کیا۔

شادی کو چار دن رہ گئے تھے اس اسٹیج میں لڑکیاں آرام کرتی ہیں' آنے والے وقت کے سہانے خواب دیکھتی ہیں' یا بیوٹی سروسز کے چکر میں ہلکان رہتی ہیں' لیکن میری بیٹی گھر اور گھر والوں کے چکر میں ہلکان تھی۔ غربت اور سفید پوشی بھی کیا چیز تھی ارمانوں اور امنگوں کو بھی سفید چادر سے ڈھک کر عزت رکھ لیتی ہے۔ میں نے پھر ایک نگاہ غلط زہرہ پر ڈالی جو مستعدی سے محلے دار کا سوٹ سینے میں مگن تھی' تاکہ رات کو پیسے لے سکے ' خدا جانے یہ کیا کرتی ہے پیسوں کا ' سارہ زندگی ایک مہذب ڈکیت کی طرح میری جیب کا صفایا کرتی رہی' مجھے کنگال کر کے خود غرضی کا اچھا ثبوت دیتی رہی سسک سسک کر زندگی گزارتے ہوۓ بھی اس لمحہ مجھے مقروض کر دیا' بیٹے نے اتنی سی عمر میں ایک میڈیکل اسٹور پر پارٹ ٹائم جاب کر کے ستر ہزار روپے جمع کیے تھے' جو رات ہی اس نے مجھے دے دیے تھے لیکن یہ رقم ساڑھے تین چار لاکھ کا مداوا نہیں کر سکتی تھی۔ لائٹ چلی گئی تھی اور زہرہ پسینے میں ڈوبی ہوئی ہاتھ کی مشین سے سینے میں مصروف تھی۔ کیسی یہ چاند رات تھی اور عید جو مجھے قرض دار ہونے کی نوید سنا رہی تھی۔ لوگ آخری افطار کا انتظارکر رہے تھے تاکہ اس کے بعد شاپنگ کے مزے لوٹ سکیںکہیں کسی چیز کی کمی نہ رہ جاۓ۔ وہ لمحہ بھی آ گیا' آخری روزہ مسلمانوں کو سوگوار کرتا اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے کو تھا۔ اب کچن سے پکوڑے تلنے کی خوشبو آ رہی تھی۔ کرن اپنی مصروفیت میں مگن آخری روزے کے اہتمام میں لگی ہوئی تھی۔ اس لمحہ مجھے اس پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔ ایک سعادت مند بیٹی ہونے کا فرض وہ آخری دم تک نباہ رہی تھی۔

مسجد سے آذان کی پر تاثیر آواز گونجی' کہیں وسل بھی بجی' رحمتوں بھرا مہینہ اپنی آخری ساعتوں سمیت آنکھیں نمناک کر گیا۔ مسجدوں میں نماز کے بعد الودع پڑھی گئی تو بہت سے دلوں پر بھی رقت طاری ہو گئی تھی۔ میں بھی سجدے میں گرا اپنے وجود کو آنسوؤں کے سیلاب میں گھرا محسوس کر رہا تھا۔