Pages 6
Views168
SIZE
1 / 6

آج چاند رات تھی' عید پورے جوش و خروش کے ساتھ اپنے دامن میں ڈھیروں خوشیاں سمیٹے نمودار ہونے کو تھی۔ اس بار تیس روزے پورے ہوۓ تھےاس لیے کل کی عید تو فکس تھی' کھڑکی کے باہر جو جھانکا لوگوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا' ہر کسی کو جلدی تھی اپنے حصے کی خوشیاں بٹورنے کی ار افطار کے بعد یہ ہجوم اور چہروں پہ سجی بے قراریاں اور خوشیاں دگنی ہو جاتی تھیں۔ ایک تہی دامن تھا تو میں۔

کیونکہ عید کے تیسرے دن میری بیٹی نے مایوں بیٹھ جانا تھا' لڑکے والوں نے تاریخ ہی ایسی مقرر کی تھی کہ مجھے ہر حال میں سر جھکانا تھا کیونکہ ایک تو میں " لڑکی والا" تھا دوسرا غریب بھی جو سب سے بڑا جرم ہے' آج کے دور میں۔ ہم جیسے طبقے کے لوگوں کو دنیا موم کی ناک کی طرح جدھر چاہے ادھر موڑ دیتی ہے۔ دولت تو ہوتی نہیں جس کے بل بوتے پر ہم بھی اپنی آرا کا اظہار کر سکیں اور کچھ بولیں گے بھی تو سنے گا کون؟ وقعت بھی تو نہیں ہوتی غریبوں کے الفاظ کی۔

بیٹی کی رخصتی کی اس وقت مجھے خوشی ہونی چاہیے تھی لیکن یہ خوشی بھی با اختیار لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جس کا بال بال قرضے میں جکڑ چکا ہو اور آگے مسئلے کا کوئی حل بھی نہ ہوتو خوشی مفقود اور بے چینی اور پریشانی سر چڑھ کر بول رہی ہوتی ہے۔ ایک ایک پیسہ سامان' جیولری' کپڑوں پر لگ چکا تھا' یہاں تک کہ ہال کی بکنگ اور کھانے کے ایڈوانس پر رہی سہی کثر پوری ہو چکی تھی اور قرضے کی ایک بھاری رقم میرے شانوں کو جھکا چکی تھی۔ جو جانے کب ادا ہوتی۔ بقایا جو زندگی رہ گئی تھی اس میں تو ممکن نہیں تھا۔ موت کے بعد یہ بوجھ میرے اکلوتے بیٹے پر آ جاتا ' ساڑھے تین لاکھ کا قرضہ تھا کوئی معمولی بات نہیں تھی مجھ جیسے آدمی کے لیے۔

زہرہ ( میری بیوی) دوسرے لفظوں میں میری چڑ' بڑی سرعت کے ساتھ کام نمٹانے میں مصروف تھی۔ ایسی عورت جسے اپنے شوہر کی اندرونی کیفیت کی خبر ہی نہ ہو' اس کی پریشانیوں میں حصہ دار نہ ہو' ایسی خود غرض عورت سے " چڑ" ہو جانا ایک فطری سی بات ہے۔

" سنیں آج کیا پکاؤں' دوپہر سے پوچھ پوچھ کر تھک چکی ہوں۔ افظار کے بعد تو حوصلہ ہی نہیں ہوتا کہ چولہے کے پاس جاؤں۔" وہ خود پرست اس وقت ایسے لگاؤ کا اظہار کر رہی تھی جیسے ہر کام مجھ سے پوچھ کر کرنے کی عادی ہو۔ مجھے شدید اکتاہٹ اس لمحے محسوس ہوئی تھی۔ کندھے پہ اس کا ہاتھ کوئی ناگوار شے محسوس ہو رہا تھا۔ میں کسی اور ہی فکر میں غلطاں تھا اور یہ کھانے پینے کی الجھنوں میں گرفتار تھی۔

" کچھ بھی پک لو' افطار کے بعد کس نے چولہے کے پاس جانے کو کہا ہے۔ افطار کے بعد ویسے بھی کچھ کھانے کو دل نہیں چاہتا۔" رکھائی سے کہتے میں نے اس کا ہاتھ ہٹایا۔