SIZE
4 / 11

پھر چھوٹے دنوں کی شادیاں ایک ساتھ ہوئیں۔ قرض ابھی اترا نہ تھا کہ ان کی بیویوں کو حصہ لے کر پرسنلی اسٹیبلش ہونے کی فکر ہو گئی۔ دل تو اس کا بھی بہت چاہتا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے کچھ جوڑ کر رکھے یا کم از کم اپنے کمرے میں اے سی ہی لگوا لے ' مگر اس کی خواہشیں چپ کے تالے کے پیچھے پڑی رہیں۔ گھر بکا' رقم تقسیم ہوئی اور وہ اماں جی کے ساتھ ایک نسبتا چھوٹے اور سادہ گھر میں آ بسی۔

وہ ملنے ملانے والوں کو بتانا چاہتی تھی کہ اماں جی نے خود اس کے ساتھ رہنا پسند کیا' مگر اماں ہر ایک کو یہی سناتیں کہ اس کا شوہر شہر سے باہر ہے' اس لیے مجبورا اس کے ساتھ رہنا پڑا اور وہ چپ چاپ سنے جاتی۔ ادھر میکے میں بھی اس کے پانچوں بھائی یکے بعد دیگرے شادی کے بعد الگ ہوتے گئے۔ اس کی چھوٹی بہن ابھی فرسٹ ائیر میں تھی کہ اماں کا انتقال ہو گیا وہاں بھی چاروں الگ گھر بنا چکے تھے۔ اماں اور نجمہ چھوٹے والے کے ساتھ رہتی تھیں۔ اماں اللہ کو پیاری ہوئیں تو بھائیوں نے طے کیا کہ نجمہ سب کے ہاں مہینہ مہینہ رہا کرے گی' تاکہ کسی ایک پہ بوجھ نہ بنے۔

باپ کی چھوڑی گئی وراثت سے ان سب کے حصے میں اتنا اتنا ضرور آیا تھا کہ سب ہی مالی طور پر اچھے خاصے مستحکم تھے' مگر نجمہ کے ماں' باپ نہ رہے تھے۔ لہذا اب اسے بوجھ ہی سمجھا جاتا تھا۔ اس کا بہت جی چاہا کہ نجمہ کو لا کر اپنے گھر ٹھہرا لے' تاکہ روز روز کے آنے جانے سے اس کی پڑھائی توکم از کم متاثر نہ ہو' مگر چپ آڑے آ جاتی۔

اماں جی اٹھتے بیٹھتےمحمد ولی کے اکلوتے ہونے پہ پریشان ہوتی رہتیں۔ ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی پریشانی اتنی بڑھی کہ وہ محمد ولی کے لیے نئی امی لانے کے معاملے میں سنجیدہ ہو گئیں۔ عاکفہ اگر پہلے چپ اوڑھے رہتی تھی تو اب گہری چپ اوڑھے رہنے لگی۔ اگر انہیں کوئی لڑکی اپنے حساب کی مل جاتی تو لڑکی والوں کو ان کا حساب کتاب پسند نہ آتا۔ ایک دفعہ بات کچھ آگے چلی تو محمد ولی کے سب سے بڑے چچا نے آ کر اماں سے خوب بحث کی اور بالاخر انہیں مزید پیش قدمی سے باز رکھنے میں کامیاب ہو ہی گئے۔

خیر ایک آدھ سال بعد اماں کو پھر سے جوش آیا' مگر پھر خود ہی سنبھل گئیں کہ اب تو محمد ولی کی مسیں بھیگ رہی تھیں۔ لہذا انہوں نے اس کے ابا کی شادی کا سوچنا چھوڑا اور اس کی شادی کے متعلق سوچ سوچ کر خوش ہوتی رہیں۔ عاکفہ کے ساتھ ان کی لڑائی ہمیشہ رہی' شادی کے سترہ سال بعد بھی وہ اپنی پسند تھے سبزی تک نہ لا سکتی تھی۔ جو اماں جی کہتیں' وہی لاتی' وہی پکاتی۔ نا پسند ہوتا تب بھی وہی کھاتی۔ لوگوں کے ساتھ کیسا لین دین رکھنا ہےاس کے بھتیجے ' بھتیجیوں کو کس قسم کے تحائف ان کی آمین یا سالگرہ پہ بھجوانے ہیں۔ سب اماں جی ہی طے کرتیں۔ وہ چپ ہی رہتی۔ مگر آج تو اس کا دل بھر آیا تھا۔ تمام کام کاج سے فارغ ہو کر اس نے کمرے کی کنڈی لگائی۔ بکسے سے پرانا البم نکالا اور اماں کی تصویر کو گلے لگا کر بچوں کی طرح رونے لگی۔

" اماں کہاں ہیں میرے حصے کے سو سکھ؟ کہاں ہیں؟ بتا مجھے' تیری چپ آج بھی میرے پلو سے بندھی ہے' مگر وہ سو سکھ کہیں نہ ملے مجھے۔" وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی رہی اور اسی رونے دھونے میں اس اس کی نہ جانے کب آنکھ لگ گئی۔

پھر جانے رات کا کونسا پہر تھا کہ اسے فون کی بیل سنائی دی ' بڑی ہی مشکل سے وہ خود کو زرا سا جگا سکی اور فون آن کیا۔