Pages 10
Views260
SIZE
1 / 10

پرنسپل کے آفس سے تیزی سے نکلتے ہوئے میں اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔ جہاں میں اپنی سوچ میں گم تھی وہیں وہ بھی تو بنا دیکھے ہاتھوں میں کھلی کتاب پر نظریں جماۓ گھسا چلا آ رہا تھا۔

" اوہو۔۔۔۔ یہ آج کمان سے تیر نکل کر ۔۔۔ کس کی کمین گاہ کی طرف محو سفر ہونے کو ہے؟ اس نے میرے ہلکے پھلکے جسم کو ہمیشہ کی طرح طنز کا نشانہ بناتے ہوۓ چہک کر پوچھا۔

" اپنی ہی کمین گاہ کی طرف اور کہاں۔۔۔۔ اچھا سنو۔۔۔۔ میرے پاس وقت کم ہے ' صرف یہی بتانا ہےکے دو دن کی چھٹی لے کر جا رہی ہوں۔ لہذا براۓ مہربانی میرے بچوں کو دو دنوں میں بگاڑ نہ دینا۔" میں نے اس کے طنزکو نظر انداز کرتے ہوۓ کام کی بات کی اور اپنی راہ لینے کا سوچا۔ معلوم تھا کہ وہ اتنی اسانی سے تو مجھے جانے نہیں دے گا ' اسی لیے اس کے جواب کی منتظر بھی رہی۔ گو کہ میں یہ بھی جانتی تھی کہ پرنسپل نے اسے آفس یہی سب بتانے کے لیے بلایا ہے کہ میری دو دن کی غیر حاضری میں اسے ہی میری کلاس کے ایکسٹرا پیریڈز دیے جائیں گے ' مگر ہم دونوں کی دوستی کی گہرائی اور بے تکلفی کا تقاضا یہی تھا کہ جانے سے پہلے دو چار باتیں میں بھی اس سے کر لوں۔

اس کی گھنی پلکیں' بھوؤں سے جا ملیں۔۔۔ اور میں مسکرا دی۔ وہ جب بھی حیران ہوتا' اس کا چہرہ سپاٹ رہتا' مگر آنکھیں پوری کھل جاتی تھیں اور شاید بس اسی وقت ' ورنہ زیادہ تر وہ خوابیدہ آنکھیں لیے۔۔۔ کاہلی سے پڑا رہتا۔۔۔۔ پہلی بار جب میں نے اسے دیکھا۔۔۔۔ پہلے دن کی اس مختصر سی ملاقات پر بھی مجھے اس کی ادھ کھلی آنکھیں بہت حیران کر گئی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کئی دنوں کا جاگا ہوا ہے ' میں احتیاط اس سے زیادہ بات نہیں کی کہ شاید تھکا ہوا ہو۔۔۔ اور بعد میں بے تکلفی ہو جانے کے بعد اس نے مجھ سے پہلے دن کی بے رخی کی شکایت کر ڈالی تھی۔ وجہ بتانے پر وہ ہنس پڑا۔

وہ ایسا ہی تھا ۔ بظاہر اکھڑ۔ تھوڑا بے لگام اور بہت زیادہ سست۔ پہلی نظر میں اس سے کسی بھی قسم کی عقل مندی کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔ مگر وہ دو چار دن اس کے ساتھ رہ کر ملنے والے کو اچھا خاصا اندازہ ہو جاتا کہ۔۔۔ " وہ میری ہستی میں انا ہے ' میری مستی میں شعور" کی مصداق اپنی دنیا میں مگن تو ہے' مگر وقت پڑنے پر چالاک و چست بھی ہو سکتا ہے۔۔۔ بہرحال میرے لیے پہلی ملاقات میں ہی اس کی خوابیدہ آنکھیں اس کا تعارف بن گئی تھیں۔

اور میں اس کو ایسے ہی یاد رکھتی تھی۔ میں نے کبھی کسی کو پورا نہیں دیکھا۔ کبھی مجھ سے پوچھا جاۓ کہ فلاں سے اتنے سالوں کی جان پہچان ہے' ان کے چہرے کے نقوش بیان کرو ۔۔۔ تو شاید میں ہکلاتی رہ جاؤں۔۔۔۔ کچھ نہ بتا پاؤں۔۔۔۔ اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ میں ملنے والوں کا نام تک بھول جاتی ہوں ۔۔۔ ہاں ملنے والے مجھے یاد تو رہتے ہیں ۔۔۔ پورے نہیں' بلکہ ان کی کوئی ادا۔۔۔۔ مسکراتے ہوۓ آنکھوں کی بڑھتی چمک۔۔۔۔ چلتے ہوۓ کسی طرف جھکاؤ ۔۔۔ یا پھر باتوں میں مخصوص انداز میں ٹھرنا اور پھر بات کو مکمل کرنا ۔