Pages 11
Views195
SIZE
1 / 11

روزانہ کی طرح جوں ہی کلاک نے ایک بجایا' گاڑی کا ہارن بجا' گیٹ کھلنے کی اواز آئی اور عبد الحفیظ صاحب اندر داخل ہوئے۔

" بابا آ گئے' بابا آ گئے۔۔۔"مغیث ' منیب سب کام چھوڑ کر ہاتھ دھونے کے لیے واش روم میں گھس گئے۔ شادی کی رات دو گھنٹے تیرہ منٹ اور سات سیکنڈ عبد الحفیظ صاحب نے بیوی کو اپنی منظم زندگی کی خصوصیات گنوائی تھیں اور اس منظم زندگی کا دارومدار ( بقول ان کے) صرف اور صرف وقت کی پابندی میں تھا۔ سو وہ دن اور آج کا دن نصرت مامی گھڑی کی سوئیوں کی طرح گھومتی تھیں۔

ٹھیک ایک بجے عبد الحفیظ صاحب اسپتال سے آتے' کھانا ڈائننگ ٹیبل پر لگ چکا تھا۔ صرف پھلکے بنانے کا کام باقی ہوتا۔ جو سربراہ کے آتے ہی توے سے اترنا شروع ہو جاتے۔ ایک بج کر دس منٹ پر کھانا لگ چکا ہوتا اور گھر کے سب افراد جمع ہوتے۔ بھوک لگی ہو یا نہ لگی ہو ' گھر کے سب افراد کو کھانے کی میز پر موجود ہونا چاہیے۔ سو سب ہی حاضر ہوتے ' کھانا خاموشی سے کھایا جاتا بعد میں سویٹ ڈش کے طور پر کوئی نہ کوئی پھل پیش کیا جاتا ' جسے کھانے کے دوران گپ شپ ہوتی۔ مسئلے مسائل پیش کیے جاتے اور حل ڈھونڈا جاتا جو با لعموم بیس سے بائیس منٹ کے دورانیے میں ہل ہو جاتا۔

مغیث' منیب نے عبد الحفیظ صاحب کو آتے دیکھا تو فورا ہاتھ دھو کر کھانے کی میز پر پہنچے ۔ عبد الحفیظ صاحب جونہی کھانے کے کمرے میں داخل ہوئے۔ سوں سوں کر کے ناک سکیڑتے ہوئےکچھ سونگھا اور بولے۔

" لگتا ہے حافظ آبادے آئے ہیں۔"

کمرے میں موجود افراد کھلکھلا کر ہنسے۔

" واہ بابا جان' کیا کہنے اپ کی اس حس شناخت کے' آپ کو کیسے پتا چلا؟" ان کی اکلوتی بیٹی ثوبیہ بولی۔

" وہ ایسے کہ آپا آئی ہوئی ہوں یا نفرہ ' مجھے ان کے کپڑوں سے ہی حافظ آباد کے چاولوں کی خوشبو آ جاتی ہے۔" عبد الحفیظ صاحب معصومیت سے بولے۔

دروازہ کھلا اور نفرہ اندر داخل ہوئی۔ " ماموں میاں! السلام علیکم!"

ماموں میاں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا' منہ سے وعلیکم السلام کہا اور بولے۔ " کب اور کس کے ساتھ آئی ہو۔" ان کے چہرے پر بڑی دل نواز مسکراہٹ تھی' جسے کسی ہمدم دیرینہ سے ملاقات کے وقت۔۔۔۔

" ابھی بیس پچس منٹ پہلے رضی بھائی کے ساتھ ۔۔۔ ان کی ہاؤس جاب کل سے شروع ہے نا۔"

ماموں میاں کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھتے ہوئے نفرہ نے جواب دیا۔

" بہت اچھی بات ہے۔ اب آئی ہو تو چار چھ دن رہ کر ہی جانا۔" انہوں نے لقمہ توڑنے سے پہلے کہا۔

" نہیں' ماموں میاں ' مجھے آج ہی واپس جانا ہے۔" نفرہ نے وضاحت کی۔ ماموں میاں خاموشی سے کھانا کھاتے رہے۔

جونہی کھانا ختم ہوا' ہاتھ نیپکن سے صاف کیے' انگوروں کا گچھا سامنے رکھتے ہوئے ماموں میاں نے نفرہ کو مخاطب کیا۔

" آج ہی کیوں' کوئی ایمرجنسی ہے کیا؟"

" پڑوس والے ذوالفقار صاحب کی نواسی کی شادی ہے۔" نفرہ نے فوری واپسی کی وجہ بتائی۔

" چھوڑو بھئی۔۔۔ کیا رکھا ہے شادیوں میں شرکت سے' ہاں ہمارا پرسوں پہاڑی علاقوں کا پروگرام ہے کاغان' ناران' مالم جبہ کا۔۔۔۔ ساتھ چلو' عیش کرو گی۔" اب کے ممانی نصرت نے بھی لب کشائی کی۔ نفرہ اگر ان کے میاں کی چہیتی تھی تو وہ بھی برابر کی دعوے دار تھیں۔