Pages 4
Views193
SIZE
1 / 4

بچپن سے ہی ثمن کا دل اپنے گھر سے زیادہ تایا جی کے گھر میں لگتا تھا. دونوں گھر ساتھ ساتھ تھے۔ ثمن چار بہن بھائی تھے تو تایا جی کے بچوں کی تعداد بھی اتنی ہی تھی' پھر جانے کیوں تایا جی کے گھر میں اتنا امن' سکون اور خاموشی ہوتی تھی' جبکہ ثمن کے اپنے گھر میں تو ہر وقت شور و غل برپا رہتا۔ چھوٹے بہن بھائیوں کی ریں ریں' چیخ و پکار' امی کی بلند آواز میں ڈانٹ پھنکار اور ابا کے گھر آنے کے بعد امی' ابا کی لڑائی' جبکہ تایا جی کے گھر میں ایسا کوئی تماشا نہیں تھا۔

دھیمے لہجے میں بات کرنے والی شفیق سی تائی جان' بچوں پر جان چھڑکنے والے تایا جی ' جو اپنے بچوں کے علاوہ بھتیجا ' بھتیجیوں پر بھی خوب ہی شفقت لٹاتے ' شہزادیوں جیسی حسین' آئمہ آپی ' ان سے چھوٹے بلا کے ہنسوڑ خضر بھائی' ذہین ' فطین رانیہ آپی اور سب سے چھوٹی اریبہ تو خیر ثمن کی پکی سہیلی تھی ہی۔ وہ اریبہ کے ساتھ کھیلنے کا کہہ کر گھر سے نکلتی تو کئی کئی گھنٹے تائی جان کے ہاں گزار دیتی۔ یا تو امی اس کے کسی چھوٹے بہن بھائی کو بھیج کر اسے بلواتیں یا پھر خود ہی بکتی' جھکتی اسے لینے آتیں ۔ ماں کے تیور دیکھ کر وہ تائی کی آغوش میں پناہ لیتی ۔ تائی جان ہی امی کو رسان سے سمجھاتیں۔

" ابھی بچی ہے۔ اتنی سختی مت کیا کرو نجمہ! پیار سے سمجھاؤ گی تو مان جاۓ گی۔"

" اب اتنی بھی بچی نہیں ہے بھابی! ماں کا زرا احساس نہیں کرتی' اگر تھوڑی دیر کو چھوٹے بہن ' بھائیوں کو سنبھال لے تو میں اتنے گھر کے بکھیڑے سمیٹ لوں' مگر یہ گھر میں ٹکے تو بات ہے۔ میں اکیلی جان کیا کچھ دیکھوں۔ اگر آپ کے دیور جی کے آنے سے پہلے کھانا تیار نہ ہو تو وہ الگ غل مچاتے ہیں۔" نجمہ ' جیٹھانی سے دکھڑا روتیں۔

" تم فکر نہ کرو' میں بچیوں کو بھیجتی ہوں ' وہ تمہارا ہاتھ بٹا دیں گی۔" تائی جان ' آئمہ آپی اور رانیہ آپی کو ان ہاں بھیج دیتیں اور واقعی پھیلا ہوا کام منٹوں میں سمٹ جاتا۔

ثمن کا بچپن رخصت ہوا اور اس نے لڑکپن کی دہلیز پر قدم رکھا ' مگر تایا کی فیملی سے اس کے لگاؤ میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ سب لوگ اسے اپنے آس پاس بسنے والے دوسرے لوگوں سے بہت منفرد اور ممتاز لگتے تھے۔