SIZE
4 / 7

گھر تو بٹھا ڈالا مگر چھت کی خالی منڈیر پر چڑھنے کی پابندی کیسے عائد کرتیں۔ بھائیوں کے ساتھ چھت پہ چڑھنے سے بھلا کون روک پاتا اسے۔ اماں دانت نکوستی رہتیں۔

" کوئی لڑکی ایسے اپنے بھائیوں کے ساتھ چھت پر چڑھی دیکھی ہے کبھی؟"

اور وہ ماں کی بات پر ہنس ہنس کر دوہری ہوتی سر نفی میں ہلا ہلا کر کہتی۔" کبھی نہیں اماں جی' کبھی بھی نہیں۔ لڑکیاں کیوں اپنے بھائیوں کے ساتھ چھت پہ چڑھنے لگیں؟ وہ تو دوسروں کے بھائیوں کے ساتھ چڑھتی ہیں نا اماں۔" اور اماں کی تو آنکھیں ابل۔۔۔۔ کر باہر آنے کو تیار ہو جاتیں اس بات کو سنتے ہی۔

" تو یہ سب دیکھتی ہے اوپر جا کر؟ اور تیرے بھائی؟"

" وہ سب بھی تو دیکھتے ہیں نا اماں! تو کیا میں نہ دیکھوں؟"

" وہ لڑکے ہیں؟"

" لڑکے ہیں یا بے حیا ہیں؟"

" بھائیوں جیسی نہیں بننا تجھے۔۔۔۔ سمجھی۔۔۔۔۔؟"

اور وہ معصومیت سے سر ہلا کر دہرا دیتی " بھائیوں جیسا نہیں بننا مجھے۔"

پھر چاند کتنی بار اسے بلانے آیا مگر وہ نظریں چرا کر اماں کو تکتی جو ایسے میں بس چولہے چڑھی ہنڈیا کو تکا کرتی تھیں۔

" چل نا پری!" چاند اسے کھینچتا۔ کمبخت چاند بھی نا کھینچنے کی فطرت سے نہ باز آیا کبھی۔ آسمان پہ ہو تو جہاں کو کھینچے اور چھت پہ ہو تو پیمان کو " تیرے بغیر میں ادھورا ہوں۔"

" جا میرے بھائی' چاند پورا ہی اچھا۔" آنکھیں ڈبڈبا جاتیں تو اور کتابیں کھول کر بیٹھ جاتی۔

" تو گڈی نہیں اڑاۓ گی اب؟" وہ تعجب سے سوال کرتا۔

" میں گڈی تھوڑا ہی اڑاتی تھی' میں تو خود ڈور سنگ اڑتی تھی۔۔۔۔ اب میری ڈور کسی اور ہاتھ میں تھما دی گئی ہے اور وہ مجھے اڑانا نہیں چاہتے۔"

اماں اور تائی کی بدولت بھائیوں سے قربت بتدریج کم ہونے لگی تو کتابوں سے بڑھنے لگی۔ پھر اسکول کے بعد کالج جانے کی ضد پکڑ لی۔ کالج' جس کی شکل کبھی بھائیوں تک نے نہ دیکھی تھی' وہ وہاں جانے کی ضد کرنے لگی۔ ابا اور عمو جان موتی بازار میں گوٹے تلے کے کام سے وابستہ تھے اور ایسی ہی ایک دکان پرانے قلعے میں بھائیوں کو بھی کھول دی' جسے تینوں مل کر سنبھالتے۔

" لڑکیاں کہاں پڑھتی ہیں اتنا۔۔۔؟"

" تعلیم کی کب سے صنف ہو گئی؟ مرد اور عورت سب پر فرض ہے۔ دونوں محد سے لحد میں اتریں گے۔ مجھ تک تو یہی بات پہنچی ہے۔ کیا آپ تک صرف مردانہ حصہ آیا؟"

" تعلیم کا سایہ پڑ گیا ہے بھاگوں والی پہ۔۔۔۔۔ " تائی کا منہ بنا۔

" تعلیم کا سایہ پڑے تو بھاگوں والی ہی ہوئی نا پھر۔۔۔۔"

" تیرے بھائیوں نے کب اتنا پڑھا۔۔۔۔؟' اماں نے ناگواری سے دیکھنے کی حد ہی کر دی پھر۔

" خود تو کہا تھا کہ بھائیوں جیسا نہیں بننا۔ اب بھائیوں جیسا بنا رہی ہو۔"