Pages 7
Views848
SIZE
1 / 7

وہ ایک ایسا ہی قہقہہ ' ایسی ہی ہنسی تھی جو کبھی اس دروبام کا مقدر مانی جاتی تھی اور پھر سالہا سال وہاں نہ گونجی تھی۔ اور اب گونجی تو۔۔۔۔۔ سب ہی چٹخنیاں گرا دی گئیں ' بوہے باریاں کھول دیے گئےکہ وہ ہنسی ہر اور گردش کرتے ہوۓ ہر گوشے میں سما جاۓ۔۔۔۔ کہیں تو قید ہوتی' ٹھہر جاۓ' اور اس لیے بھی کہ سب جان لیں کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔۔۔۔؟

عمو جان ٹوٹے عدسے والا چشمہ جماۓ' چھت سے جھانکنے لگے تو بڑے بھیا مسواک چھوڑ کر غسل خانے سے باہر بکل آۓ۔ سویرا بھابی گھی کے سنے ہاتھ لیے برامدے میں آ کھڑی ہوئیں۔ باہر چاٹی سے مکھن نکالتی تائی کے ہاتھ تھمے تو ننھی اماں کے گھٹنے میں سر دیے دبک گئی۔ اور اماں' انہیں تو جیسے بیٹھے بیٹھے لقوہ ہی ہو گیا۔ انہیں یقین کرنا مشکل ہو گیا۔ یقین تو اس کچی نیند سے ننگے پیر بھاگنے والے چاند کو بھی نہیں ہوا تھا' جس کے دائیں پیر میں سوئی چبھنے کے سبب خون کی لکیربرامدے سے صحن تک پھیلتی چلی گئی تھی۔ اور وہ بڑی فرصت سے اس قہقہے والی کو دیکھنے کھڑا تھا۔

راجہ بازار کے پرانے محلے کی اینٹ سے اینٹ جڑی ہوئی تھی' کتنوں نے سر۔۔۔۔۔ نکال دیکھا' کتنے چوبارے چڑھ کر جھانکنے کھڑے ہوۓ۔ اس نے آخری بار تب وہ قہقہہ سنا تھا جب وہ لڑکپن کے آخری زینے پر کھڑا تھا یا شاید اس سے پچھلے زینے ۔۔۔۔ بات پرانی تھی مگر اتنی پرانی بھی نہیں تھی کہ اسے ٹھیک سے یاد نہ رہتی۔ میٹھا ماضی خردماغوں کو بھی خوب یاد رہتا ہے۔

دو چٹیاں بناۓ ' ربڑ بینڈ سے گول مول کر کے انہیں اوپر ٹکاۓ ' دوپٹا ایک کندھے سے لا کر کمر پہ کسے' گھٹنوں تک آئی قمیض اور پٹیالہ شلوار پہنے وہ چھت پہ چڑھی اس کی پتنگ اڑاتے ہوۓ' بلا مبالغہ آس پڑوس کی کوئی دس پتنگیں تو کاٹ چکی تھی۔۔۔۔ اور گیارہویں پتنگ کاٹنے پر اس کے حلق سے قہقہہ بلند ہوا اور اس سے ازخود اپنی پتنگ کو ہوا کے سنگ اڑنے کے لیے چھوڑ دیا۔

چاند نے گڈی اڑاتے ہوۓ اسے گھور کر دیکھا۔۔۔۔ خالصتا بھائیوں والی گھوری۔۔۔۔

" باز آ جا۔۔۔ مت یوں چھتوں پہ چڑھ کر ہنسا کر۔"

اور پری پہ ہنسی کا دورہ پڑ گیا ۔ بری آوازوں سے بری ترین ' گدھے کی آواز۔ جس سے پناہ مانگتے تعوذ پڑھا جاتا ہے تو پری کی ہنسی بھی تعوذ پڑھنے لائق تھی۔

" لو پڑ گیا پھر سے ٹھٹھے کا دورہ بھاگوں والی کو۔۔۔۔" تائی نے نیچے سے آواز لگائی تو وہ منہ پر ہاتھ رکھے' ہنسی کے مارے دوہری ہوتی وہیں بیٹھتی چلی گئی۔ جتنی چاند کی گڈی اوپر کو اٹھی' اتنا پری نیچے کو جھکی۔ گڈی نے عرش کوچھوا تو پری نے فرش کو۔ چاند نے ہی گڈی کاٹتے اور اسے